امریکی وزرارتِ خارجہ کے قائم مقام انسپکٹر جنرل نے کہاہے
کہ وہ عراق اور تیل کی مغربی کمپنیوں کے درمیان منافع بخش معاہدوں میں اپنے محکمے
کے ممکنہ کردار کے بارے میں تفتیش کررہے ہیں۔
امریکی پالیسی یہ
رہی ہے کہ ایسے معاہدوں کی حوصلہ شکنی کی
جائے کیونکہ عراق میں ابھی تک تیل کے بارے
میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جو محصولات کو شفاف طورپر تقسیم کرسکے۔
قائم مقام انسپکٹر جنرل ہیرلڈ گائزل نے قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے
کہ انہوں نے تیل کے معاہدوں، آئل فیلڈ کی ترقی اور عراق میں امریکی پالیسی کے
جائزے کا عمل شروع کردیا ہے۔
یہ تفتیش ڈیموکرٹیک پارٹی کے چار سینیٹروں کی جانب سے
تحقیقات کے مطالبے کے بعد ہورہی ہے۔
اس مہینے کے شروع میں امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے شواہد
پیش کیے تھے کہ ممکنہ طور پر امریکی وزرات خارجہ نے امریکہ میں قائم ہنٹ آئل کمپنی
اور عراق کے کرد علاقے کی حکومت کے درمیان معاہدے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
وزارتِ خارجہ نے تیل کے معاہدے میں اپنے کسی کردار سے انکار
کیا ہے۔