امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ صدر مشرف کا استعفی پاکستان میں جمہوریت کی فتح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا بدستور اتحادی رہے گا تاہم پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ اور افغانستان کو بھی برابر کے اقدامات کرنے ہونگے۔ ایٹمی سائنسدان عبدالقدیر خان کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا مگرپاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
صدر مشرف کے استعفی کے دوسرے روز واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک نیو امریکہ فاونڈیشن کے سیمینار میں مشرف کے بعد کے پاکستان کے استحکام کے حوالے سے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے حسین حقانی کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کا استعفی پاکستان میں جمہوری نظام کے لئے ایک نیا موقعہ ہے۔ پہلی بار پاکستان کی فوجی قیادت خود کو سیاست سے الگ تھلگ رکھنے پرآمادہ دکھائی دیتی ہے مگرپاکستان کی مینجمنٹ کو اب عوامی حکومتوں کے ساتھ مل کر چلنا سیکھنا ہوگا
حسین حقانی کا کہناتھا کہ یہ پاکستان کے لئے ایک موقعہ ہے کہ ملٹری اور سویلین حکومتوں کے درمیان آنکھ مچولی کاسلسلہ توڑا جائے۔ یہ تبدیلی اس لئے بھی اہم ہے کہ فوج کے ذریعے اقتدار میں آنے والا بغیر کسی فوجی مداخلت کے اقتدارچھوڑنے پر تیار ہو گیا۔ اس بار پاکستان نے تبدیلی کا عمل ایک بالکل آئینی اور قانونی طریقے سے مکمل کیا ہے۔ ۔ اور تمام تر مسائل کے باوجود پاکستانیوں میں ایک امید جاگی ہے کہ شائد آگے بڑھنے کا کوئی راستہ اب بھی موجود ہے۔
پاکستانی سفیر کا کہناتھا کہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ فوج نے اپنے آپ کو ملکی سیاست سے الگ رکھا ہے۔ جو ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ۔ میں مانتا ہوں کہ فوج کو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ہے مگر یہ پہلا موقعہ ہے کہ فوج سویلین قیادت کے ساتھ اس طرح مل کر کام کرنے پر تیار ہوئی ہے۔ ۔
حسین حقانی کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کا مستقبل اب کیا ہوگا اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی لیکن عمومی طور پر پاکستان میں اس وقت افہام و تفہیم کی فضا ہے۔ حقانی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر مشرف نے اپنے کردار کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ امریکہ اور مغربی ملک ان کی غیر آئینی حکومت کی حمایت کرتے رہیں مگر پاکستان کی سویلین حکومت کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
پاک افغان تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان ،افغانستان ،نیٹو اور امریکہ ایک دوسرے کے تعاون سے حکمت عملی ترتیب نہیں دیتے۔ اس وقت تک پاک افغان سرحد پرنہ تو مکمل کنٹرول قائم کیا جا سکتا ہے اورنہ ہی سرحد کے دونوں اطراف میں القاعدہ کی تلاش کا کام ممکن ہے۔ واشنگٹن میں بار بار پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف اور کام کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگرمیں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ کے تمام فریقوں امریکہ ،نیٹو،افغانستان اور پاکستان سب کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یقیناپاکستان اس میں اپنا کردار ادا کرنے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں حکمراں اتحاد چند مشکلات کے باوجود قائم رہے گا کیونکہ پاکستانی سیاستدانوں نے سمجھ لیا ہے کہ پاکستان میں مستحکم سیاسی نظام قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ فوج کو دوبارہ سیاست میں مداخلت کا موقعہ نہ ملے
ان کا کہناتھاکہ پاکستان کے دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین اپنی عمر کے ابتدائی پچاس سالوں میں ہیں اور دونوں کو کوئی جلدی نہیں ہے۔ آصف زرداری اپنی اہلیہ کی موت کے بعد ایک معاملہ فہم سیاستدان بن کر ابھرے ہیں اور نواز شریف نے بھی حکومت سازی اورصدر کے مواخذہ اور دیگر اختلافی معاملات پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی زبردست صلاحیت کا مطاہرہ کیا ہے۔ لوگ پاکستانی قیادت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ بد گمانی کا شکار ہیں مگر پاکستانی قیادت نے تاریخ سے کئی سبق سیکھے ہیں۔
حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا کیونکہ دنیا کا کوئی ملک اپنے سائنسدان کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرتا لیکن پاکستان کے ایٹمی ہتھیار وں کی حفاطت نیوکلئیر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ماتحت ہے جو انتہائی پروفیشنل افراد کے ہاتھ میں ہے اور ملک کا آئندہ صدر اس کا سربراہ ہوگا۔