اگر آپ اتنے ذہین ہیں تو پھر آپ کی مالی حالت اتنی پتلی کیوں ہے؟
یہ سوال بڑا عام اور سیدھا سادا نظر آتا ہے۔ کیوں کہ معاشرے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ذہانت اور زندگی میں کامیابی کا چولی کادامن کا ساتھ ہے۔ تاہم جدیدتحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہانت زندگی میں کامیابی میں مدد نہیں کرتی بلکہ الٹا اس کے آڑے آتی ہے۔
اس موضوع پر کیے جانے والے ایک تحقیقی مطالعے کے مصنف جے زگورسکی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر اس ذہانت کا فائدہ کیا ہے کہ اچھی تنخواہ کے اور عمدہ نوکری کے باوجود کوئی ذہین شخص قرض کے بوجھ تلے دبا ہو؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے انھوں نے امریکہ کے شماریات کے وفاقی ادارے کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کا بغور مطالعہ کیا جس میں ساڑھے سات ہزارکے لگ بھگ نوجوانوں سے ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں 1979ء سے لے کر 2004ء تک 21 بار سوال پوچھے گئے تھے۔ ان سرویز کے سائنسی جائزے سے انھیں معلوم ہوا کہ آئی کیو میں ایک سکور کے اضافے کا مطلب ہے ،سالانہ آمدنی میں اوسطاً 346ڈالر کا اضافہ۔ اس کی مثال یوں سمجھیئے کہ اگر کسی کی آئی کیو 100 اور سالانہ آمدنی 50 ہزار ڈالر ہے تو زگورسکی کے فارمولے کے تحت 120 آئی کیو والے کی سالانہ آمدنی تقریباً 70 ہزار ڈالر ہو گی۔ تاہم اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ آئی کیو والے افراد زیادہ پیسہ ضرور کماتے ہیں لیکن وہ اس پیسے کو بچا نہیں پاتے اور آخر میں ان کی مالی حالت کم آئی کیو والوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔ اور جہاں تک معاشی پریشاں حالی کا معاملہ ہے، زیادہ عقل یہاں بالکل بے کار ثابت ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کی آئی کیو 140 سے زیادہ ہے (یعنی انتہائی ذہین لوگ۔یاد رہے کہ اوسط آئی کیو 100 ہوتی ہے)، وہ کم آئی کیو والے افراد کے مقابلے میں قرضے کی قسطیں ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کے دیوالیہ ہونے کی شرح 14.1 فی صد ہے جو 80 آئی کیو والے افراد کے قریب ہے۔ واضح رہے کہ 80 آئی کیو والے افراد کند ذہن ہوتے ہیں۔ زگورسکی کی تحقیق کے مطابق صرف وہ لوگ معاشی بدحالی سے نسبتاً بہتر طریقے سے عہدہ برآ ہوتے ہیں جن کی آئی کیو 100 سے تھوڑی سی اوپر ہو۔ تاہم اگر کسی کو قدرت کی طرف سے زیادہ آئی کیو ودیعت نہیں ہوئی اور اس وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہوں تو انھیں دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ زگورسکی کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق سے صاف ظاہر ہے کہ زیادہ ذہانت اور زندگی میں کامیابی لازم و ملزوم نہیں ہیں، اس لیے کم ذہانت والے افراد بھی برتر معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔