بیجنگ میں اولمپکس کے بینر کے ساتھ ساتھ تبت کی آزادی کے حق میں بینر لگا ہوا ہے
بیجنگ میں اولمپک کھیلوں کا اختتام ہونے والا ہے۔اس دوران مختلف مقابلوں میں سینکڑوں تمغے دیے گئے اور درجنوں ریکارڈ توڑے گئے۔سپورٹس کے ماہرین تو اعداد و شمار جمع کرنے میں مگن ہیں جب کہ سیاسی تجزیہ کار یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ چین کی میزبانی نے جو انوکھی مثال قائم کی ہے اس کا چین پر اور اس کے عوام پرکیا اثر مرتب ہوگا۔
اولمپکس کی افتتاحی تقریبات انتہائی دلکش تھیں۔ اسی طرح نئی زیرِ زمیں ریل اور سٹیڈیم کا نیا ڈیزائن دم بخود کردینے والے تھے۔چین کی حکومت کی خوب واہ وا ہوئی جس نے اولمپک کی تیاری پر تقریباً 45 ارب ڈالر خرچ کیے۔
شی ژِن ہانگ جو بیجنگ میں پیپلز یونیورسٹی میں شعبہ ٴ امریکیات کے ڈائیرکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ چین میں اولمپکس کا نتیجہ یہ ہے کہ ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے نہایت سخت اقدامات کیے گئے جن کے باعث بیجنگ میں دس سال میں پہلی بار اتنی صاف فضا اور اتنا صاف آسمان دکھائی دیا ہے۔ انہوں نے مزید کیا کہ اولمپکس کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ لوگوں کو اور حکومت کو احساس دلا دیا گیا ہے کہ صاف ہوا اور ٹریفک کی آسان آمد و ر فت معاشرے کے لئے کتنی اہم ہیں۔
کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ اولمپک کھیلوں کے ذریعے چینی معاشرے کے آزاد ہونے کے خواب شرمندہ ٴ تعبیر نہیں ہو سکے۔غیر ملکی صحافیوں کو زیادہ آزادی سے رپورٹیں بھیجنے کی اجازت تھی تاہم انہیں کچھ نہ کچھ پابندیوں کا پھر بھی شکار رہنا پڑا۔کئی انٹرنیٹ پروگرام بدستور بند رہے ۔ حکومت نے احتجاجیوں کے لیے ایک خاص جگہ مقرر کر دی تھی مگرمظاہرے کرنے کی 77 درخواستوں میں ایک بھی منظور نہیں کی گئی۔اور کچھ درخواست گذاروں کو حراست میں رکھے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
حقوقِ انسانی کے کارکن کہتے ہیں کہ ان کھیلوں نے سیاسی مخالفین اور کچھ نسلی اور مذہبی گروپوں کے خلاف سختی کو بڑھا دیا ہے۔حکام نے اولمپک کھیلوں کی تیاریوں میں کچھ لوگوں کے گھروں کو تباہ کر دیا ، بہت سےغیر ملکی تارکینِ وطن ، گداگروں اور بے گھر افرادکو ملک بدر کیا گیا۔
مصنف ڈیوڈ والچنسکی کہتے ہیں کہ انہیں اولمپکس سے کبھی یہ امید نہیں تھی کہ وہ چین کو بدل ڈالیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین واحد جماعت کی کمیونسٹ آمریت ہے۔ان کی معیشت کو کسی کی مدد نہیں چاہیئے۔انہیں اپنی خوشحالی دنیا کو دکھانے کا شوق نہیں ۔انہیں اقتصادی اعتبار سے کسی کی محتاجی بھی نہیں۔وہ تو منزل پہ پہنچ چکے ہیں چنانچہ مجھے تو یہ غلط فہمی کبھی نہیں تھی کہ ان کھیلوں کے باعث چین باقی دنیا کے ساتھ گھل مل جائے گا۔
ادھر امریکہ میں قائم ایشیا سوسائٹی کے ڈائرکٹر جمیل مطزل نے کہا کہ چین کی یک جماعتی حکومت نے کھیلوں کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے کہ اس کا وجود جائز ہے۔
واشنگٹن میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے شعبہٴ مطالعہٴ ایشیا کے صدر وکٹر شا کہتے ہیں کہ چین کے لیڈروں کا چینی معاشرے کو آزاد کرنے کا کوئی لمبا چوڑا پروگرام نہیں ہے۔مگر انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے کھیلوں کی مشعل بجھنےکے بعد بھی ان پر عالمی دباؤ بدستور رہے گا۔
اقوام ِ متحدہ کے ایک عہدیدار خالد ملک نے کہا ہے کہ بیجنگ اولمپک کھیلیں یادگار رہیں گی۔
عمومی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ اولمپکس کے نتیجے میں کھیل، تجارت اور عالمی سیاست کے میدانوں میں مستقبل میں چین کے عوام میں اعتماد بڑھے گا۔