اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے صدارتی امیدوار پر تنقید میں اضافہ
حسن سید اسلام آباد September 4, 2008
پیپلز پارٹی کے حامی
صدارتی انتخابات میں اب صرف دو روز باتی ہیں اور حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری صدارت کے لیے سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دے رہے ہیں۔
لیکن پاکستان مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جماعتِ اسلامی پر مشتمل اپوزیشن جماعتیں آصف زرداری کی بطور صدر اہلیت پر مسلسل تنقید کررہی ہیں۔
اپوزیشن کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین ماضی میں بدعنوانی کے الزامات کے باعث متنازعہ شخصیت ہیں اور اُن کے صدر منتخب ہونے سے ایوانِ صدر ایک سیاسی جماعت کا مسکن بن جائے گا۔
اُدھر، پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے آصف زرداری کے خلاف تمام تر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریک چیرمین نے اپنی جمہوری ساکھ کو بھرپور طریقے سے منوایا ہے اور ایوانِ صدر کو جمہوری عمل داری کی جانب بحال کیا ہے۔
اُن کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی کو چاروں صوبوں، پاکستانی کشمیر اور قبائلی علاقوں میں حمایت حاصل ہے اور اِس اعتبار سے جماعت کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا پورا حق ہے۔
دریں اثنا،مسلم لیگ ن کے ایک رہنما احسن اقبال نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آصف زرداری سے، بقول اُن کے، پی سی او چیف جسٹس حلف لیتے ہیں تو آصف زرداری کا انتخاب متنازعہ ہو جائے گا۔ اُن کامطالبہ تھا کہ فوری طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کیا جائے تاکہ جو بھی آئندہ منتخب ہونے والے صدر ہیں اُن سے پاکستان کے آئینی اور قانونی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری حلف لے سکیں۔