ریپبلكن نیشنل كنونشن کا آغاز ڈیموکریٹ پارٹی جیسا بہت شاندار نہیں تھا اور دوسرا اسے عراق جنگ مخالف مظاہروں کا بھی سامنان کرنا پڑا۔ کنونشن کے دوسرے روز یعنی منگل سے وہ جوش نظرآیا جس کی كنونشن كے دوران توقع کی جارہی تھی۔ كنونشن كے چار دنوں میں بہت سے پارٹی ممبران سٹیج پر آئے اور جان مك کین كو پارٹی كے لیے بہترین امید وار قرار دیاجن میں صدر بش بھی شامل ہیں۔ وہ سمندری طوفان گسٹاف کے باعث پیدا ہونے والی صورتِحال سے نمٹنے كے باعث كنونشن میں ذاتی طور پر تو شریك نہ ہوسكے مگر انہوں نے سٹلائٹ كے ذریعے کنونشن کے مندوبین سے خطاب كیا۔
جان مك کین کی حمایت میں تقریر کرنے والوں میں 2000 میں ڈیموكریٹك پارٹی كے نائب صدارتی امیدوار جو لیبر مین بھی شامل تھے جنہوں نے پارٹی كو بالائے طاق رکھتے ہوئے جان مك کین كی حمایت کی۔
سینٹر جان مك کین جمرات كے روز پارٹی كی نامزدگی باقاعدہ طور پر قبول كریں گے اور اس كے بعد سے الیکشن کی تاریخ تک اپنی صدارتی مہم چلائیں گے۔
ریپبلكن پارٹی كی حكمت عملی کے بارے میں ایری زونا سے تعلق رکھنے والے ڈیلی گیٹ جوبارڈی کہتے ہیں کہ ری پبلیکن کا پیغام یہ ہے کہ ہم امریکہ کو مضبوط بنائیں اور بہتر کو بہتر کریں گے۔ اور ان کاموں کے لیے جان مک کین ایک بہترین امیدوار ہیں۔
نائب صدارتی امیدوار كی نامزدگی كے بعد ری پبلیکنز کے لیے ایك بڑا چیلنج یہ بھی ہے كہ وہ كس طرح میڈیا كی توجہ سیرا پیلن سے ہٹا كر واپس جان مک کین کی طرف لاسکتے ہیں۔