انگوراڈہ میں امریکی آپریشن، کسی خفیہ منصوبے کا پیش خیمہ؟
اسد حسن واشنگتن September 4, 2008
انگور اڈے میں تعینات پاکستانی سپاہی (فائل فوٹو)
پاکستانی سرحدی قصبے انگوراڈہ میں بدھ کے روزکے زمینی آپریشن کی امریکی حکام نے تصدیق کر دی ہے۔ سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینیئر امریکی عہدےدار کے حوالے سے خبر جاری کی ہے کہ یہ آپریشن امریکی قیادت میں اتحادی فورسز نے کیا۔ اس سے قبل افغانستان میں امریکی اورنیٹوفورسز اور واشنگٹن میں پینٹگان نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ دوسری طرف پاکستان کی قومی اسمبلی اورسینٹ نے متقفہ طور پر اس آپریشن کی مذمت کی ہے اور اسے شرم ناک قرار دیا ہے۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد آپریشن کے حوالے سے کئی سوالات زیربحث ہیں۔ کیایہ آپریشن پاکستانی حکام کے علم میں لائے بغیر کیا گیا تھا؟ کیا یہ آپریشن پاکستان کے جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار پر اتحادیو ں خاص طور پر افغانستان اور امریکہ کی جانب سے ماضی قریب میں سامنے آنے والے عدم اطمینان کا عملی اظہار ہے؟ اور یہ کہ کیا اس طرح کے آپریشن اب آئندہ بھی ہوتے رہیں گے؟
امریکہ کے اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی آج ہی کی اشاعت میں اس حوالے سے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے حوالے سے دعوی ٰکیا گیا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کے علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف سپیشل آپریشن فورسز کو استعمال میں لانے کے اس ’خفیہ منصوبے‘ کا آغاز ہو سکتی ہے ، جس کی امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس مہینوں تک صدربش کی وارکونسل میں وکالت اور حمایت کرتے رہے ہیں۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اس آپریشن سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں جہاں امریکہ کے دیرینہ اتحادی پرویز مشرف کے گذشتہ ماہ استعفے کے بعد پہلے ہی غیرمستحکم سیاسی صورت حال مزیدابتر ہو چکی ہے۔
انگور اڈا جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانہ سے 60 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے
وائس آف امریکہ کے پروگرام ’آج شام‘میں امریکہ اورپاکستان کے دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھی اس آپریشن کے حوالے سے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اتحادی فوجوں نے پہلی دفعہ پاکستانی سرزمیں پر حملہ نہیں کیا بلکہ وہ کئی مرتبہ یہ اقدام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے پہلی دفعہ کھل کر امریکہ کے متعلق بیان دیا کہ ہم اس کے غلام نہیں ہیں۔
حمید گل نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی افغانستان میں پھنس چکا ہے اسے پاکستان کی عوامی اور فوجی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ اس سوال پر کہ کیااس بات کے امکانات ہیں کہ گذشتہ ہفتے پاکستان اور امریکہ کی فوجوں قیادت کے درمیان ملاقات میں ا یسے کسی آپریشن کے بلیوپرنٹس ممکنہ طور پر زیرگفتگو آئے ہوں؟ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی فوج کبھی بھی اپنے شہریوں کے خلاف بیرونی آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتی۔
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال متین الدین کا بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی قیادت ایسے حملوں کی یک طرفہ اجازت کا سوچ بھی نہیں سکتی اورخاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی حکومت موجود ہو۔ اس سوال پر کہ ملکی فوج کی ان حالات میں ذمے داری کیا ہونی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج بہت پروفیشنل ہے اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسیات کے پروفیسر اورتجزیہ کارڈاکٹر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ مذمتی قراردادوں سے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس انداز میں اب کی بارپارلیمنٹ نے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے اس سے موہوم سی امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور اسی کے اتحادی مستقبل میں ایسے کسی آپریشن سے گریز کریں گے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے سربراہ میجرجنرل (ر) جمشید ایاز نے اسی تناظرمیں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ یہ آپریشن پاکستان کے علم میں لانے کے بعد کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس واقعے پر غم وغصے کی کیفیت میں ہے اور امریکہ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس طرح کے اقدامات اس کے لیے پاکستانی عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کریں گے اور تعلقات خراب ہوں گے۔
امریکی تھنک ٹینک رینڈکارپوریشن کی سینیئر پولیٹیکل سائنٹسٹ کرسٹین فئیرنے اس آپریشن کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اورخاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر اثرات کے بارے میں کہا کہ تعاون پر اس لیے کچھ زیادہ منفی اثرات نہیں ہوں گے کہ جس سطح پر تعاون اور دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیئے تھی وہ بقول ان کے پہلے سے ہی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی فرنیٹرکور افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجوں پر ماضی میں حملے کرتی رہی ہے تو اس تناظر میں ایک ایسے اتحادی کی جانب سے جو نائن الیون کے بعد اربوں ڈالر وصول کرچکا ہو، اس طرح کے اقدامات کو تعاون قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کرسٹین فیئر نے گزشتہ دنوں منظر عام پر آنے والی سی آئی اے کی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کا الزام دیا گیا ہے۔