چوالیس سالہ سارہ پالین اکثر امریکیوں کے لیے ایک نیا چہرہ ہیں۔ سینیٹر جان مک کین کی جانب سے ان کے ساتھ نائب صدر کے لیے انتخاب لڑنے والی الاسکا کی یہ گورنر اپنے آپ کو ایک روائتی ماں کہتی ہیں۔ جب کہ تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس سے قطعی مختلف ہیں۔
بہت سے امریکی سوال کررہے ہیں کہ سارہ پالین کون ہیں؟ جمعے کے روز ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارت کے لیے نامزد امیدوار جان مک کین نے قوم کو ان سے متعارف کروایا۔ وہ ایک بیوی اور پانچ بچوں کی ماں ہیں۔ سب سے چھوٹا بچہ ڈاون سینڈروم کا مریض ہے۔ پالین کو اپنے بچے کے مرض کا علم دوران حمل ہی ہوگیا تھا۔ لیکن وہ اسقاط حمل کی مخالف ہیں اور شادی سے قبل جنسی تعلقات سے اجتناب کرنے کی حامی ہیں جس کی بنا پر قدامت پسند ان کی تعریف کرتے ہیں۔ تاہم پیر کے روز سارہ پالین نے اپنی سترہ سالہ غیر شادی شدہ بیٹی کے حاملہ ہونے اور پیدا ہونے والے بچے کو خود پالنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وہ اور ان کے شوہر کے مطابق انہیں اپنی بیٹی کے اس فیصلے پر فخر ہے۔
خود اپنے بارے میں گورنر کا کہنا ہے کہ میرے والدہ اور والد دونوں ایک مقامی ایلیمینٹری سکول میں کام کرتے تھے اور میرے شوہر اور میں، ہم دونوں بھی ا اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہوئے بڑے ہوئے۔ میں الاسکا کی ایک عام ہاکی مم تھی۔
وہ اوسط درجے کی طالبہ تھیں۔ ہائی سکول باسکٹ بال ٹیم میں وہ ایک نمایاں کھلاڑی تھیں جس میں انہوں نے اپنی سخت جانی کے باعث ایوارڈ بھی جیتا تھا۔ سیاست میں آنےسے پہلے وہ ماہی گیری کے ایک کاروبار کی مالکہ اور ٹی وی سپورٹس رپورٹر تھیں۔
ان کے والد چارلس ہیتھ کا کہنا ہے کہ سارہ کی اپنی ایک مضبوط سوچ تھی اور خاص طور پر اس وقت جب وہ خود کو درست خیال کررہی ہوتی تھیں۔ اور ایسا اکثر ہوتا تھا۔
انہوں نے سٹی کونسل سے ایک چھوٹے شہر کی میئر کے عہدے تک پہنچیں اور پھر دو سال سے بھی کم عرصہ پہلے وہ الاسکا کی گورنر منتخب ہو گئیں۔
گورنر کے طور پر انہوں نے طاقت ور گروپوں کے خلاف جدوجہد کی اوروہ اپنی ریاست میں تیل نکالنے کے متنازع معاملے میں اضافے کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ توانائی کے ذرائع پر نہ ختم ہونے وا لی بحث خاص طور سے الاسکاوالوں کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم مسئلے کو حل کرنے ، تیل پیدا کرنے اور باقی ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔