دیکھنے میں تو یہ شہر ممبئی کے لاتعداد کال سنٹرز سے ملتا جلتا ایک اور کال سنٹر معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کی مدد سے ہندوستان کے نابینا افراد بھی اس ملک کی ورک فورس میں شامل ہو سکیں گے۔ یہاں کام کرنے والے نابینا افراد روزانہ ٹاٹا انڈی کام نامی ہندوستان کی ایک ٹیلی فون کمپنی کی طرف سے ان گنت کالز ملاتے ہیں۔ لیکن کمپیوٹر کی سکرین سے گاہکوں کے نام پڑھنے کے بجائے یہ ٹیلی فون آپریٹر ایک ایسا سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جو کمپنی کے سرور پر موجود معلومات انہیں پڑھ کر سناتا ہے۔ آپریٹر کام کے دوران دو فون استعمال کرتے ہیں۔ ایک فون کے ذریعے وہ سرور سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اور دوسرے فون سے گاہکوں کو کال ملا کر دیتے ہیں۔ اس کام کے لیے خوش گفتاری کے علاوہ اچھی یادداشت بھی بہت ضروری ہے۔
پروجیکٹ مینیجر رینا چدھا کہتی ہیں کہ یہ سب شاندار یادداشت کے مالک ہیں۔ آپ انہیں جو بات بتائیں گے، یہ چند لمحوں میں یاد کر لیں گے۔ جس کی وجہ سے انہیں اس کام میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ یہ سب کے سب یقیناَ بہت محنتی ہیں۔
آپریٹر پرافل ٹنڈن جزوی طور پہ نابینا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی مارکٹنگ میں تجربے کی وجہ سے انہیں یہ کام بہت آسان لگا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے پہلے ہی کچھ اندازہ تھا کہ گاہکوں سے کس طرح بات کرنی چاہیے اور کس طرح انہیں اپنی کمپنی کی طرف مائل کرنا چاہیے۔ ہم اپنے ہر گاہک کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کے مطابق ان سے گفت و شنید کرتے ہیں۔
پراجیکٹ منیجر چدھا یہاں کام کرنے والوں کی راہنمائی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نابینا کارکنوں کی وجہ سےان کا کام کسی طرح متاثر نہیں ہوتا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان سب کوجو کام دیا جائے، وہ اسے بہت اچھی طرح سرانجام دیتے ہیں۔ سب بہت محنتی اور بے حد ذہین ہیں۔
34 سالہ دیپتی گاندھی پچھلے سال سنٹر کی ابتدا سے ہی یہاں کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کال سنٹر میں کام کرنا ایک چیلنج ہے، لیکن میں نے ہمیشہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس طرز کا یہ دوسرا کال سنٹر ہے جو ہندوستان کی نیشنل ایسوسی ایشن فار دی بلائنڈ نے ٹاٹا انڈی کام کے تعاون سے قائم کیا ہے۔ اس طرح کے سنٹرز کی مدد سے اب بھارت کے نابینا افراد کو بھی اس شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کی جا سکیں گے۔