معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلا ء نے جمعرات کو اسلام آبا د میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جس کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کی۔دھرنے میں شامل وکلاء کے ایک گروہ نے سپریم کورٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر وہاں موجود پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جس میں چند وکلاء زخمی بھی ہوئے۔ اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی تک وکلاء کی یہ احتجاجی تحریک جاری رہے گی، انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان اور جمہوریت مظبوط عدلیہ کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتے۔
احتجاجی دھرنے میں شامل وکلاء نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری ، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے خلاف نعرہ بازی بھی۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ اور پنجاب ہائی کورٹ کے چا ر معزول ججوں کو دوبارہ حلف لینے کے بعد بحال کرنے اور وزیر قانون کی جانب سے باقی ماندہ معزول ججوں کی بحالی کو نئے حلف سے مشروط کرنے کے بیانات کے بعدججوں کی بحالی کی تحریک میں شامل وکلاء میں خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ادھر جمعرات ہی کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ایک سرکردہ رہنماء احسن اقبال نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے من پسند ججوں کی دوبارہ حلف برداری کے بعد بحالی کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں ججوں کی اس طرح بحالی کو فوری طور پر روکا جائے ، کیونکہ ان کے بقول یہ آزادی ِعدلیہ نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی پر بدترین حملہ ہے۔