معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے پاکستان آئی ایم ایف کی مددلے سکتا ہے: ماہرین
قیصر محمود کراچی September 5, 2008
عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کی ٹیم 12ستمبر کو کراچی پہنچ رہی ہے۔یہ ٹیم حکام سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے اقدام اور ادارے کی ممکنہ مدد کے حوالے سے بات چیت کرے گی۔
مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے آئی ایم ایف سمیت مالیاتی اداروں کی مدد کی ضرورت ہے اور اِسی بات کے قوی امکانات ہیں کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف پروگرام سے مدد لے گا جس کے لیے سخت اقتصادی فیصلے کرنا ہوں گے۔
ملک میں تیل، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اِن اداروں کی طرف سے دباؤ اور بحالیٴ معیشت کے لیے مزید سخت اقدامات کی توقع کی جارہی ہے۔
سابق دورِ حکومت میں پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے باہر آگیا تھا مگر ایک مرتبہ پھر اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ڈفالٹ سے بچنے کے لیے اُسے آئی ایم ایف کی مدد درکار ہوگی۔
اِس وقت ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر نو ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔گذشتہ آٹھ ماہ میں ذخائر میں سات ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔روپے کی قدر بھی 20فی صد سے زائد کمی کے ساتھ 77روفے فی ڈالر سے بلند ہے۔
تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، افراطِ زر تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔
پاکستان کو درآمدات اور بیرونی ادائگیوں کے لیے زرِ مبادلہ کی ضرورت ہے جس کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے مالی امداد اور اقتصادی تعاون کے حصول کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
ماہرین صورتِ حال کو معیشت کا بحران قرار دے رہے ہیں۔