ڈاکٹر عافیہ امریکی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کی تحویل میں
امریکی اہل کاروں پر بندوق سے حملے کے الزام میں زیر ِحراست پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے پر جرح 22 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
نیو یارک کی ایک ضلعی عدالت میں جمعرات کو ہونے والی پیشی میں زیادہ تر بحث اس پر ہوئی کہ ڈاکٹر صدیقی کی ذہنی حالت کا معائنہ کیسے ہوگا اور انہیں کس طرح اس کارروائی میں شامل کیا جائے گا۔
وکلائے صفائی نے نکتہ اٹھایا کہ 36 سالہ پاکستانی ڈاکٹر چونکہ مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنی ہیں اس لیے ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں، اور ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
وکیل الزبتھ فنک نے کہا: ’میرے خیال میں اس عورت کو 2003ء میں اس کے بچوں کے ساتھ اغوا کیا گیا اور اسے پاکستانی یا امریکی حراست میں رکھا گیا‘
انہوں نے کہا کہ ان کی موکل کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے طبی معائنے کو یقینی بنایا جائے اور انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی خود عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ ان کی وکیل ایلزبتھ فنک کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ تلاشی کا وہ طریقہٴ کار ہے جس سے جیل خانے سے نکلنے سے پہلے ڈاکٹر صدیقی کو گزرنا پڑتا ہے۔
اس طریقہ کار میں ملزم کے کپڑے اتار کر پہلے اس کے ہاتھ اوپر کروائے جاتے ہیں اور پھر اسے آگے جھک کر کھانسنے کو کہا جاتا ہے۔ وکیل صفائی الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ ڈاکٹر صدیقی کے پیٹ میں ٹانکے لگے ہیں اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ کار بے حد تکلیف دہ ہے۔
خود ڈاکٹر صدیقی کے وکیل 11 اگست سے ان سے نہیں مل سکے کیونکہ وہ اس تلاشی سے بچنے کے لیے جیل میں اپنی کوٹھڑی سے باہر نہیں نکلتیں۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صدیقی کا عام ملزمان سے زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کے لیے خصوصًا ایک خاتون ڈاکٹر کو نیو یارک بلوایا جا رہا ہے۔
عدالت میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کپڑے اتار کر تلاشی کا مخصوص طریقہ کار ڈاکٹر صدیقی تک محدود نہیں بلکہ جیل میں موجود ہر ملزم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے وقت اس سے گزرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر صدیقی کی عدم موجودگی اور جیل سے باہر نکلنے سے انکار سے ایک مسئلہ یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ڈاکٹر صدیقی کو مقدمے کی کاروائی کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ جج رچرڈ برمن نے بارہا کہا کہ ڈاکٹر صدیقی اگر عدالت میں پیش ہوسکیں تو خود ان کو فائدہ ہوگا لیکن یہ ان کا فیصلہ ہے۔
عدالت کے باہر ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ
اس سلسلے میں ویڈیو لنک کے ذریعے انہیں عدالتی کاروائی میں شریک کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔
12 ستمبر تک دونوں معاملات، یعنی ذہنی صحت کے طبی معائنے اور مقدمے میں شرکت کے طریقہ کار پر وکلائے صفائی کو اپنی تجاویز عدالت کو بھیجنی ہیں، 17 ستمبر تک وکیل استغاثہ کو اس کا جواب دینا ہے اور 22 ستمبر کو عدالت میں یا تو ان تجاویز پر فیصلہ ہوگا یا اگر پہلے ہی دونوں فریقوں میں اتفاق ہو گیا تو جرح کا آغاز ہوگا۔
اس کے علاوہ وکیل صفائی نے ڈاکٹر صدیقی کے ایک گائناکالوجسٹ سے معائنے کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔
عدالت کے باہر ڈاکٹر صدیقی کے حق میں مظاہرین پوسٹر اور بینر لیے کھڑے نظر آئے۔