پارلیمنٹ اور چاروں اسمبلیاں ہفتے کے روز ملک کے نئے صدر کا انتخاب کریں گی
September 5, 2008
صدارتی انتخابات کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور چھ ستمبر ہفتے کے روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں ملک کے نئے صدر کا انتخاب کریں گی۔
صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری سب سے مضبوط امیدوار ہیں جب کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے ریٹائرڈ جسٹس سعید الزماں صدیقی اورمسلم لیگ ق کی طرف سنیٹر مشاہد حسین صدارتی امیدوار ہیں۔
آصف علی زرداری کے سیاسی مخالفین اُن پر کڑی تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جِن کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں بد عنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنے کی وجہ سے متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اکثریتی جماعت ہونے کے اعتبار سے اُسے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا پورا حق ہے اور وہ پُر اعتماد ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں آصف زرداری کو ہی صدر منتخب کریں گی۔
تین نومبر کی معزول عدلیہ بحال نہ کرنے پر بھی وکلا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سےآصف علی زرداری تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اِسی سلسلے میں جمعے کے روز تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اُن کے خلاف سینکڑوں افراد پر مشتمل ایک جلوس کی قیادت کی۔
انھوں نے کہا ’یہ واضح ہوگیا ہے کہ آصف زرداری کسی صورت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال نہیں ہونے دے گا۔ وکیلوں کو خرید رہے ہو، ججز کو خرید رہے ہو، سب کو خرید لو۔ لیکن تم چیف جسٹس افتخار کو نہیں خرید سکتے۔‘
خیال رہے کہ سابق صدر مشرف 18اگست کو مواخذے کی تحریک سے پہلے سے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جِس کے بعد اب نئے صدر کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔