پنجاب میں صدارتی انتخاب سے پہلے سیاسی کش مکش عروج پر
افضل رحمن لاہور September 5, 2008
چھ ستمبر کے صدارتی انتخاب سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اُن کے امیدوار آصف علی زرداری یقینی طور پر جیتنے کے بعد ملک کے صدر بن جائیں گے۔
مبصرین پاکستان پیپلز پارٹی کے اِس موقف سے متفق ہیں مگر اُن کی نظریں پنجاب پر لگی ہوئی ہیں جہاں صدارتی انتخاب کی ووٹنگ کے نتائج شہباز شریف کی مخلوط حکومت کا مستبل طے کریں گے۔
371 ارکان کے ایوان میں مسلم لیگ ن کے پاس 171 نشستیں ہیں جب کہ سادہ اکثریت 186 ارکان سے بنتی ہے۔
اِس وقت پیپلز پارٹی کے اشتراک سے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے اور مرکز میں پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی علاحدگی کے بعد پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت سے الگ ہوگئی تو مسلم لیگ ن کی حکومت یہاں ختم ہو جائے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن اسمبلی میں اپنی اکثریت قائم رکھنے کے لیے مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک پر انحصار کر رہی ہے جِس کے 30سے زیادہ ارکان کے لیڈر میاں عطا مانیکا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اور اُن کے ساتھی چھ ستمبر کو مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دے کر اِس جماعت کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ثابت کریں گے۔
صدارتی انتخاب سے ایک روز پہلے صوبے میں سیاسی کش مکش عروج پر دکھائی دیتی ہے۔
صوبائی حکومت کے مستقبل کے بارے میں چمہ گوئیاں بھی ہو رہی ہیں، کیونکہ اگر فارورڈ بلاک کے ارکان صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ ڈال بھی دیتے ہیں تو مبصرین کے بقول بات یہیں ختم نہیں ہوگی۔
اُن کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے لیے اعتماد کے ووٹ کی نوبت بھی آسکتی ہے اور ’ڈفیکشن کلاز‘ کے استعمال سے فارورڈ بلاک کے ارکان کی رکنیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔