آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے ملک کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں ۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں آصف علی زرداری کو 281ووٹ ،پنجاب اسمبلی میں 123،سندھ میں 162، صوبہ سرحد میں 107 اور بلوچستان اسمبلی میں 59ملے ہیں ۔
سترہویں ترمیم کے تحت صدر کو حاصل آئینی اختتارت کے پس منظر میں سابق مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک کے مضبوط ترین صدر ہونگے ۔ قومی اسمبلی میں ووٹوں کی گنتی کے دوران آصف علی زرداری کی دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ بھی موجود تھیں اور جب چیف الیکشن کمشنر نے قومی اسمبلی میں نتائج کا اعلان کیا توسابق مقتول وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی۔
زرداری کے مدمقابل مسلم لیگ نواز کے صدارتی امیدوار سعید الزاماں صدیقی کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں 111،پنجاب اسمبلی میں201 ، سرحد اسمبلی میں 10،بلوچستان اسمبلی میں دو اور سندھ اسمبلی میں کوئی ووٹ نہیں ملا۔
صدارتی انتخاب میں شامل تیسرے امیدوار مشاہد حسین سید نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں34،پنجاب اسمبلی میں 36،سرحد اسمبلی میں3،بلوچستان اسمبلی میں دو اور سندھ اسمبلی میں کوئی ووٹ نہیں ملا۔
صدر کے انتخاب کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین نے اسلام آباد میں جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کے دوران اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے اردگرد سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدا م کئے گئے ہیں۔