امریکہ عراقی وزیر اعظم کی جاسوسی کرتا رہا ہے: ورڈ وارڈ کی کتاب میں انکشاف
September 6, 2008
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ امریکی عہدے داروں سے اس الزام کے متعلق وضاحت طلب کریں گے کہ بش انتظامیہ نے وزیر اعظم نوری المالکی اور دوسرے عراقی عہدے داروں کی جاسوسی کی تھی۔
یہ دعویٰ امریکہ کے ایک تحقیقاتی رپورٹر باب وڈ وارڈ کی ایک آنے والے کتاب میں کیا گیا ہے ، جو واشنگٹن پوسٹ اخبار کے معاون ایڈیٹر بھی ہیں۔
جمعے کے روز اخبار میں کتاب پر قبل از اشاعت کیے جانے والی ایک جائرہ رپورٹ میں امریکی ذرائع کے حوالے مسٹر مالکی کے بارے میں یہ جملہ کہا گیاہےکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں وہ سب کچھ معلوم ہے ۔
عراقی حکومت کے ایک ترجمان علی الدباغ نے کہا ہے کہ اگر ووڈ ورڈ کی بات سچ ہے تو اس سے دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈ لے نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں عراقی عہدے داروں کی جاسوسی کے الزام کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ۔
ہیڈلے نے اس حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ صدر بش عراق کے مسائل کا عوامی سطح پر اظہار نہیں کرتے اور وہ عراق پالیسی کے کسی جائزے سے الگ رہتے تھے۔
قومی سلامتی کے مشیر ہیڈلے نے وڈوارڈ کے اس دعویٰ سے بھی اتفاق نہیں کیا کہ عراق میں تشدد میں کمی کی بنیادی وجہ2007 میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وڈوارڈ کا کہنا ہے کہ عراق میں شورش پسندوں کے لیڈروں کو ڈھونڈنے اور ہلاک کرنے کے خفیہ طریقوں سمیت میں ،تین اضافی وجوہات تھیں ۔ انہوں نے شیعہ عالم مقتتدر الصدر کے اپنی مہدی ملیشیاء کو قابو میں رکھنے کے فیصلے اور عراق میں سنی گروپوں کے القاعدہ کے خلاف ہوجانے کے عمل کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا ۔ ہیڈلے یہ دلیل دیتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے ہی دوسری کارروائیاں ممکن ہوسکیں ۔
وڈورڈ کی کتاب جس کا نام، دی وار ودان، اے سیکرٹ وائٹ ہاؤس ہسٹری، ہے ،انٹیلی جنس کے عہدے داروں ، سفارت کاروں اور فوجی ذرائع کے انٹرویوز پر مبنی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں صدر بش کے دوانٹرویو بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب پیر کوریلیز ہوری ہے۔