اسٹیبلشمنٹ کی سیاست جاری رہی تو پھر حالات میں بہتری عبث ہے : منیر اے ملک
September 6, 2008
منیر ملک
سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر، منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ وکلا کا اصولی موقف تبدیل نہیں ہوا، اور اگر ملک میں ’اسٹیبلش منٹ کی سیاست چلتی ہے تو پھر حالات میں تبدیلی کی توقع نہیں ہو سکتی۔‘
آصف علی زرداری کے صدرِ پاکستان کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر معاملہ یہ تھا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کی وجہ سے زرداری صاحب افتخار محمد چودھری کو بحال کرنے سے قاصر تھے، تو چھ ستمبر کے صدارتی الیکشن کے بعد آئندہ پانچ برس کے لیے این آر او ایک ’نان اِشو‘بن گیا ہے، کیونکہ جب تک صدرِ پاکستان عہدے پر فائز ہے اُن کو اشتغاثے کی کارروائی سےاستثنیٰ حاصل ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات چیت میں، منیر اے ملک نے کہا کہ صدارتی انتخاب کی وجہ سے امیدیں تو تبدیل نہیں ہوں گی۔ ’منتظمِ اعلیٰ تو اب بھی وزیرِ اعظم ہی ہیں، زرداری صاحب کے صدر بننے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔‘ وکلا تحریک کا موقف یاد دلاتے ہوئے ، اُنہوں نے کہا کہ ’اگزیکیوٹو آرڈر‘تو وزیرِ اعظم ہی جاری کرسکتے ہیں۔
اُن کے مطابق، ملک میں اعتماد کا بحران ہے جِس طرف حکومت کو دھیان دینا ہوگا، اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک پارلیمان نے اپنی بالادستی کے حصول کے لیے کوئی آزادانہ کردار ادا نہیں کیا۔ اُن کے بقول، آصف زرداری کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی سترہویں آئینی ترمیم یا صدر کے اختیارات واپس کرنا چاہتے ہیں؟
سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین کے صدرِ پاکستان کے طور پر انتخاب کو جمہوری روایات کے فروغ سے تعبیر کیا۔ دوسری طرف، اُن کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت کی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں جِن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معاشی پالیسی شامل ہیں۔’اگر سیاسی کھیل میں اصول اور رواداری کی فضا قائم رہی تو پھر جمہوریت مضبوط ہوگی، لیکن اگرکسی طرح کی محاذ آرائی شروع ہوگئی پنجاب یا وفاق میں تو یہ جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔‘
سابق وزیرِ خارجہ گوہر ایوب خان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ فروی سے لے کر اب تک قبائلی علاقوں کے حوالے سے امن کے حالات ابتر ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے خصوصی طور پر گذشتہ چند دنوں میں امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی طرف سے فائرنگ اور میزائل داغے جانے کے واقعات کا حوالہ دیا۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی گرفت مضبوط نہیں ہے۔
58(2B)کے حوالے سے ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ آئین میں شق چھ بھی موجود ہے لیکن پھر بھی فوجی طاقت سے حکومت کا تختہ الٹتا رہا ہے؟
’آج پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے علاوہ بغاوت اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی سامنا ہے، جِن کو دور کرنا پڑے گا۔‘اِس حوالے سے، گوہر ایوب خان کا کہنا تھا کہ کچھ وسائل پاکستان کے پاس ہیں جب کہ کچھ سازو سامان ملک کو دوست ملکوں سے لینا پڑے گا۔
آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے پر اپنے تاثرات میں، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بتایا کہ ’اصل اور اہم بات یہ ہے کہ عوام نے اپنے اعتماد کا اکثریت کے ساتھ اظہار کر دیا ہے۔ اور نو سال کے بعد ایک آئینی اور قانونی صدر کا منتخب ہونا ملک کے لیے خوش آئند ہے۔اُنہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کیسے صدر ثابت ہوتے ہیں، یہ اُن کے اقتدار میں آنے کے بعد ثابت ہوگا۔‘
سابق سفیر، طارق فاطمی نے کہا کہ آصف زرداری کے انتخاب کا ساری سیاسی جماعتوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ اُن کے الفاظ میں، اِس اقدام سے جمہوریت پروان چڑھے گی۔