وادیِ کشمیر اور جموں کے خطے کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں سنیچر کو عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔
ہڑتال کے دوران سری نگر اور وادیِ کشمیر کے چند دوسرے علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر مظاہرے کیے اور کشمیر پر بھارتی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے جب مظاہروں کو روکنے کی کوشش کی تو مشتعل نوجوانوں نے اُس پر پتھراؤ کیا۔
ہڑتال کے لیے اپیل، استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں اور حامی انجمنوں کی ایک کمیٹی نے کی تھی۔
سری نگر کے پرانے علاقے میں پولیس نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ ایک گولی ایک 20سالہ نوجوان جاوید اقبال بٹ کے سینے میں دل کے قریب جا لگی۔ نوجوان کو اسپتال پہنچانے پر ڈاکٹروں نے اُسے مُردہ قرار دے دیا۔پولیس ایکشن میں ایک اور نوجوان زخمی ہوگیا۔
اس واقعے کے بعد شہر میں تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہوگیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر بھارت مخالف نعرے لگائے۔ تاہم تیز بارش کے باعث یہ سلسلہ بہت جلد ماند پڑگیا۔
وادیِ کشمیر اور جموں کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں اگرچہ مکمل ہڑتال کی گئی اور چند مقامات پر لوگوں نے جلوس بھی نکالے لیکن مذہبی طور پر دن پُر امن گزرا۔ رابطہ کمیٹی نے پولیس پر بربریت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آئندہ مزاحمتی پروگرام کا جلد اعلان کیا جائے گا۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حفاظتی دستوں نے صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے انتہائی قلیل طاقت استعمال کی۔