نئے مالی اقدامات کے باعث بینکاری کے شعبے میں انضمام اور فروغ متوقع: اسٹیٹ بینک ذرائع
قیصر محمود کراچی September 6, 2008
اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالی شعبے کی اصلاح کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہا ہے اور بینکوں کے لیے کم سے کم سرمائے کی حد بڑھا کر 23ارب روپے کر دی گئی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے سے بینکاری کے شعبے میں انضمام اور فروغ کا ایک اور دور شروع ہوگا۔ کئی بینک باہم ضم ہو کر اِس شرط کو پورا کریں گے، تو کئی چھوٹے بینک بڑے بینک خرید سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہوں کے اجلاس میں کیا گیا جِس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کیپیٹل اڈیکوئیسی تناسب میں بھی دس فی صد اضافہ کیا جائے تاکہ بینکوں میں استحکام آ سکے۔
اسٹیٹ بینک بینکاری کے شعبے کی اصلاحات کے دس سالہ پروگرام کے تحت بینکوں کے لیے ادا شدہ سرمائے کی ضرورت بیس کروڑ ڈالر بڑھانے کا پہلے ہی اعلان کر چکا ہے۔
مقامی بینکوں کے لیے 23ارب روپے سرمائے کی حد تک پہنچنے کے لیے دسمبر 2013ء تک کا وقت دیا گیا ہے جب کہ ملک میں کام کرنے والے ملکی بینکوں کو بھی یہ ہدف حاصل کرنا ہوگا۔ اِس لیے بینکوں کو کم سے کم سرمائے کی ضرورت بڑھانے کے لیے شیڈول بھی دیا گیا ہے۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے کا صاف مقصد یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ملک میں چھوٹے بینکوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
اُنہیں یا تو اِن شرائط کو پورا کرنا ہوگا یا اپنے بینک دوسرے بینکوں میں ضم کرکے اِس کو پورا کریں گے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ بڑے بینک چھوٹے بینکوں کو خرید لیں۔