پاکستان کے نو منتخب صدر کے بارے میں ردِّ عمل؛ توقعات، امیدیں اور خدشات
اسد حسن واشنگٹن September 6, 2008
پاکستان کا صدر منتخب ہونے کے بعد آصف زرداری خطاب کر رہے ہیں
پاکستان میں صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کے بطور صدر منتخب ہونے پر پاکستان کے سیاست، فوج، عدلیہ، سول سوسائٹی اورصحافت کے شعبوں سے وابستہ نمائندہ افراد نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ان کے تاثرات وائس آف امریکہ کے اردو پروگراموں میں آج نشر کیے گئے، ان کا خلاصہ پیش ہے
پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیرمین راجہ ظفرالحق پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیرمین راجہ ظفرالحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے عہدہ صدارت سے استعفی کے بعد ایک سیاسی شخصیت کا اس مسند کے لیے منتخب ہونا جمہوریت کے لیے نیک شگون ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اگر وفاق میں پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ ملا ہے تو ملک کے باسٹھ فیصد آبادی والے صوبے میں یہ مینڈیٹ مسلم لیگ نواز کے حصے میں آیا ہے۔ دونوں جماعتوں کو اس چیز کا احترام کرنا چاہیے اور رسہ کشی کی بجائے ملک کو درپیش دہشتگردی، اقتصادی مشکلات اورافغان سرحد پر موجود صورتحا ل جیسے مسائیل پر مل کر کام کرنا چاہیے۔
پیپلزپارٹی کے رہنماسینیٹر تاج حیدر پیپلزپارٹی کے رہنماسینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ آصف علی زرداری اپنے عزم کے مطابق پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے ان کے لیے صدر کے اختیارات اپنے پاس رکھنا اتنا زیادہ اہم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم 58ٹوبی جیسی آئینی شقوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں ہم اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے سترھویں ترمیم کے نقصانات کا بھی ازالہ کریں گے۔
ججوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے تاج حیدر نے کہا کہ ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ججوں کی بحالی کا طریقہ درست نہیں ہے پھر بھی جج صاحبان ہماری درخواست ہے کہ وہ آئیں اور حلف اٹھائیں تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میں جسٹس افتخارچوہدری کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ایک فوجی حکمران کے سامنے انکار کرنےکی جرات دکھائی۔
مسلم لیگ ق کے رہنما سینیٹر ایس ایم ظفر مسلم لیگ ق کے رہنما سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ دستوراور آئین کے تحت صدارتی انتخاب کا انعقاد خوش آئند ہے۔تاہم انہوں نے کہا قاف لیگ کے ارکان کی ایک اکثریت کی طرف سے پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ مایوس کن ہے۔ اور ایسے اراکین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمانوابزادہ خواجہ محمد ہوتی عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمانوابزادہ خواجہ محمد ہوتی نے کہا کہ آصف علی زرداری نے صوبائی خودمختاری اورپختونخواہ جیسے دیرینہ مطالبات ماننے کا وعدہ کیا ہے جس پر ہم نے ان کی بھرپور حمایت کی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالرؤف مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالرؤف مینگل نے کہا کہ ہم آصف زرداری کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں لیکن ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محض معافیاں مانگنے کی بجائے بلوچستان سے فوج کے آپریشن کو بند کرانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ممتاز وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ آج کے دن اگر کہا جا رہا ہے کہ جمہوریت کی فتح ہوئی ہے تو اس بات کا بھی اعتراف کیا جانا چاہیے کہ اس کی بنیاد نو مارچ کو چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے انکار کے بعد وکلا ء اور سول سوسائٹی کی تحریک پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن کہیں بہتر ہوتا کہ وہ اس منصب کے سنبھالنے سے پہلے آزاد عدلیہ کا خواب شرمندہ تعبیر کرتے اور آج انہیں اگر مگر کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا فیصلہ قابل احترام ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ عوام کی آج کی خواہشات کے سو فیصد نمائندگی کرتا ہو۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا کہ زرداری صاحب اگرچہ صدر کو حاصل آج کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کی بات بڑے طمطراق سے کرتے رہے ہیں لیکن ان کی خو کو دیکھتے ہوئے آسانی سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ یہ طاقت چھوڑنے پر راضی ہوں۔
سینئرتجزیہ کار حسن عسکری حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر کو عوامی اورپارلیمانی تائید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خارجہ پالیسی کے شعبے میں ، سرحد میں ہونے والی بیرونی مداخلت کے تناظر میں دلیرانہ فیصلے کرنا چاہییں تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔
لیفٹینینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم لیفٹینینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے سابق فوجیوں کے فورم کے ایک نمائندے کی حیثیت سے کہا کہ آج کا دن کسی ایک سیاسی جماعت کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنے پر مجبورکرنے میں سول سوسائیٹی، سابق فوجی عہدیداروں، وکلا اور سیاسی کارکنوں کا بڑا کردار ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کنورخالد یونس متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کنورخالد یونس نے کہا کہ آصف زرداری کی حمایت کا مقصد ملک میں امن و امان کی دشمن طاقتوں کو کمزور کرنے کے نظریے سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زرداری مکمل طور پر جاگیردار طبقے کے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ مڈل کلاس کے بھی قریب رہ چکے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب نے کہا اقتصادی بہتری پیپلز پارٹی کی حکومت کی ترجیج ہو گی۔
مسلم لیگ نواز کے نائب صدر سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ اگر پنجاب میں ان کی جماعت کے مینڈیت کا احترام نہ کیا گیا اور صوبائی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ اقدام میثاق جمہوریت کی روح کے منافی ہو گا اور اس کی تمام ذمے داری پیپلز پارٹی پر ہوگی۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما سینیٹر طارق عظیم سینیٹرطارق عظیم جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ قائداعظم سے ہے، نے آصف زرداری کو مبارکباد پیش کی تاہم انہوں نے کہا کہ ق لیگ کے بعض رہنماؤں نے ذاتی مفاد کو پارٹی کی سیاست اور نظریے پر ترجیح دی ہے۔