 |
| نو منتخب پاکستانی صدر آصف علی زرداری |
پاکستان کے بارہویں منتخب ہونے والے صدر آصف علی زرداری 26 جولائی 1955 کو سندھ کے ضلع نواب شاہ میں پیدا ہوئے۔سندھ کے زمیندار اور کاروباری گھرانے سے تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیڑکس سکول کراچی سے حاصل کی۔ گوکہ آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں ہوتا ہے تاہم سیاسی منظر نامے پر آصف علی زرداری کانام 1987کو پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد سامنے آیا۔
گھڑ سواری اور پولو سے لگاؤ رکھنے والے آصف علی زرداری 1990 اور 1993میں دو بارپیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جبکہ 1997 میںآ صف علی زرداری سینٹربھی منتخب ہوئے۔ وہ ماحولیات اور سرمایہ کاری کے وزیر کے طورپر کام کرچکے ہیں۔
27 دسمبر 2007 ء کو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں ہلاکت کے بعدآصف علی زرداری پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے پارٹی کے تمام انتظاما ت چلا رہے اور انہی کی سربراہی میں اس سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی ایک بارپھر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طو ر پر ابھری۔
سترہویں ترمیم کے تحت صدر کو حاصل آئینی اختیارات اور حکمران جماعت کا سربراہ ہوتے ہوئے ملک کے بارہویں صدر آصف علی زرداری کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے مضبوط ترین سربراہ مملکت ہونگے۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، خاص طور پر دہشت گردی اور گرتی ہوئی معیشت ایسے بڑے چیلنج ہیں جن کا سامنا نئے صدر کو کرنا ہو گا۔
آصف علی زرداری سے قبل پاکستان کے 11 صدور میں سے پانچ فوجی جرنیل تھے۔ میجر جنرل سکند رمرزا پاکستان کے پہلے صدر اور آخری گورنر جنرل تھے وہ 1956 سے 1958 تک برسراقتدار رہے۔
پاکستان کے دوسرے صدر بھی ایک فوجی تھے،فیلڈ مارشل ایوب خان پہلے فوجی حکمران تھے جنہوں نے سکندر مرزا کو برطرف کر کے عنان اقتدار سنبھالا۔ 1960 میں ریفرنڈم اور 1964 میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں انتخاب جیت کر سربراہ مملکت منتخب ہوئے۔ ایوب خان 1958 سے 1969 تک سربراہ مملکت رہے ۔ انہوں نے 1969 میں اقتدار اپنے وفادار فوجی جنرل یحیٰ خان کے حوالے کردیا۔
اور اس طرح جنرل یحیٰ خان پاکستا ن کے تیسرے سربراہ مملکت بن گئے۔ یحیٰ خان 1969 سے 1971 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔
بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ملک کے پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بنے،چوتھے صدر ذوالفقار علی بھٹو 1971 سے 1973تک اس عہدے پر قا ئم رہے۔
فضل الہی چوہدری نے 1973 سے 1978تک پاکستان کے پانچویں صدر کے طور پر کام کیا۔
 |
| جنرل ضیاالحق |
پاکستان کے چھٹے صدر جنرل ضیاالحق نے 1977 میں اْس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹراور بعد میں ملک کی صدارت سنبھالی۔ جنرل ضیا الحق 1988 تک صدر رہے ۔ اپنے دور اقتدار میں ہی طیارے کے ایک حادثے میں جنرل ضیاالحق ہلاک ہوگئے۔ ان کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے سینٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان پہلے عارضی اور بعد میں باقاعدہ صدر کے انتخاب کے بعد پاکستان کے ساتویں صدر بنے ، وہ 1988 سے 1993 تک عہدہ صدارت پر فائز رہے۔ 1993 میں غلام اسحاق خان کے استعفٰی کے بعدوسیم سجاد نے عبوری صدر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے بعدمیں صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لیاتاہم اپنے مدمقابل صدارتی امیدوار فاروق لغاری سے یہ انتخاب ہار گئے۔
1993میں فاروق لغاری پیپلزپارٹی کی حمایت سے پاکستان کے نویں صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے اور 1997 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
1997میں مسلم لیگ نواز کی حمایت سے محمد رفیق تارڑپاکستان کے دسویں صدر کے طور پرمنتخب ہوئے۔ ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو کم کیاگیا۔رفیق تارڑ 2001 تک پاکستان کے صدر رہے۔جنرل پرویز مشرف پاکستان کے گیارہویں صدر تھے۔ جنرل پرویز مشرف 1999 میں نوازشریف کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد پہلے چیف ایگزیٹو اور بعد میں صدر بن گئے۔ جنرل مشرف 2001 سے 2008 تک صدر کے عہدے پر فائزرہے ۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے صدر مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعدوہ اس سال 18 اگست کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
 |
| جنرل پرویز مشرف |
صدر مشرف کے دور میں آئین میں کی جانے والی سترہویں ترمیم جس کے تحت صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے کے بعد ایک مضبوط صدر کے طور پر جانے جاتے تھے۔اور اب ملک کے بارہویں منتخب صدر آصف علی زرداری کو اسی سترہویں ترمیم کے تحت وہ تمام آئینی اختیارات حاصل ہیں جو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو حاصل تھے۔