نیوکلیئر سپلائرز گروپ نے بالآخر بھارت کو جوہری ایندھن کی درآمد اور جوہری سازوسامان کی تجارت کرنے کی چھوٹ دے دی ہے، اور اِس طرح، بھارت کے ساتھ اب جوہری تجارت پر عائد پابندی کے ایک طویل دور کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
اِس کے ساتھ بھارت امریکہ غیر فوجی جوہری تعاون معاہدے کے نفاذ کا راستہ بھی صاف ہوگیا ہے۔
ویانا میں جاری نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کے اجلاس میں اصل بحث جمعے کے روز ہی ختم ہوگئی تھی لیکن چین، آسٹریا، نیوزی لینڈ، نیوزیلینڈ اور آئرلینڈ نے بعض اعتراضات کیے تھے، بالآخر وہ بھی دور کرلیے گئے اور اس طرح بھارت نے ایک زبردست کامیابی ہے۔
45 رکنی این ایس جی کے ذریعے بھارت کو چھوٹ دیے جانے کے فیصلے کا بھارت نے زبردست خیر مقدم کیا ہے اور وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن، کانگریس کے سینئر لیڈر اور کئی مرکزی وزرا نے اِسے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے۔
ادھر صدر بش اور وزیر اعظم من موہن سنگھ نے فون پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی ہے اور اس کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
کانگریس کے ایک سنیئر رہنما نے بھی کہا ہے کہ یہ بھارت اوراُس کی ڈپلومیسی کی زبردست جیت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ صرف بھارت کی تاریخی فتح ہی نہیں ہے بلکہ اُنہیں یقین ہے کہ بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ یہ نہ صرف بھارتی حکومت بلکہ تمام ہندوستانیوں کی کامیابی ہے۔ کانگریس کے دفتر کے باہر جشن کا ماحول ہے۔