امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس لیبیا کے صدر قدافی سے ملاقات کر رہی ہیں
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے لیبیا کے دارلحکومت تریپولی میں ایک تاریخی دورے کے دوران صدر معمر قذافی سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکہ اور لبیبا کے درمیان تعلقات کا ایک اچھا آغاز ہورہا ہے۔
وزیر خارجہ رائس گذشتہ 55 برسوں میں لبیبا کا دورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ امریکی سفارت کار ہیں ۔
جمعے کے روز صدر قدافی سے ملاقات کے بعد ، رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں فریقوں نے تجارت، ثقافت اور تعلیم میں تعاون پر گفتگوکی ۔ لیبیا تیل برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔
لبیبا کے وزیر خارجہ محمد عبدالرحمنٰ شلگام نے اسی نیوز کانفرنس میں کہا کہ دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی ، عراق کی صورت حال اور سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفر پر بھی گفتگو کی۔
وزیر خارجہ رائس نے کہا کہ ان کا دورہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کا کوئی مستقل دشمن نہیں ہےمگر انہوں نے کہا کہ لبیبا اور امریکہ کواپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ابھی ایک لمبا سفر کرنا ہے۔
امریکہ نے 1986 میں صدر قدافی کے محل پر بمباری کی تھی جس کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ یہ امریکیوں پر دہشت گرد حملے میں لبیبا کے ملوث ہونے کا ردعمل تھا۔
توقع تھی کہ وزیر خارجہ رائس صدر معمرقذافی کو اس معاہدےپر عمل درآمد کے لیے زور دیں گی جس کے تحت لیبیا 1980 کے عشرے میں لیبیا کے دہشت گرد حملوں سے منسلک تلافی کے مطالبوں کے تصفیے کے لیے متفق ہوگیا تھا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں دورہ کرنے سے پہلے اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے تھا جب تک لیبیا تلافی کی رقم ادا نہ کردیتا۔