دارفر کے باغیوں نے کہا ہے کہ سوڈانی فوجیں مسلسل دوسرے روز بھی شمالی دارفر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کررہی ہیں لیکن فوج نےان خبروں کی تردید کی ہے۔
شورش پسند سوڈان لبریشن آرمی نے کہا ہے کہ سرکاری فوجی ہفتے کے روز درجنوں گاڑیوں میں سوار ہوکر اندر گھس آئے اور وہ مغرب میں باغیوں کے زیر قبضہ جبل مارا کے کچھ حصوں میں گھسنے کی کوشش کررہے ہیں۔
باغیوں نے کہا ہے کہ سرکاری فوج نے ہفتے کے روز اسی علاقے میں ان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد کے اس واقعہ میں کم ازکم 60 عام شہری، باغی اور سرکاری فوجی ہلاک ہوئے۔
اتوار کے روز سرکاری میڈیا سینٹر نے خبر دی کہ شمالی دارفر میں حال ہی میں کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ سینٹر نے مسلح فورسز کے ایک ترجمان بریگیڈئیر عثمان محمد الاغباش کے حوالے سے بتایا کہ سرکاری فوجی انسانی ہمدردی کے قافلوں کو علاقے میں باغیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے سڑکوں کی حفاظت کررہے ہیں۔
دارفر میں افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے امن کاروں کے مشترکہ مشن نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیق کررہے ہیں۔