انگریزی زبان میں ،نیوز ہنگری ،کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے۔ مگر کیا یہ اصطلاح میڈیا کے جدید ذرائع کی پیدا وار ہےیا قدیم زمانے سے انسان زیادہ جاننے کی بھوک میں مبتلا ہے ؟ کیاتمام صحافی قابل اعتبار ہوتے ہیں ؟کیا خبراور اس کی پیشکش کے انداز کو کوئی مخصوص گروپ یا لابی کنٹرول کر سکتی ہے ؟یہ اور اس جیسے بہت سے سوال عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے واشنگٹن کے نیوزئم کی نیوز ہسٹری گیلری میں چلتے ہیں۔
میڈیا کے ماہرین کے مطابق خبر کی دنیا میں اہمیت صرف آج کی ہوتی ہے۔ خبر کی ترسیل کا نطام بھلے ہی تبدیل ہوتا رہے مگر خبر کی تعریف کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ تین سال پہلے اگر سمندری طوفان کترینابڑی خبر تھا تو آج گستاف کی اونچی لہریں اور متاثرہ انسان امریکی اخبارات اور ٹی وی کی ہیڈلائنز کا موضوع ہیں۔ اور یہی خبریں ہیں جن کی تاریخ محفوظ کی گئی ہے ،نیوز ہسٹری گیلری میں۔
میوزیم میں رکھتی ہوئی یہ تاریخی اور نادر دستاویز 1455یعنی پانچ صدیاں پہلے سے لے کر آج تک کی وہ کہانی سناتی ہیں۔ جو انسان کی اس ضرورت کے متعلق ہے کہ وہ جاننا چاہتا ہے۔ اور جو اس پر بیتی وہ دوسرے کو بتانا چاہتا ہے۔ ان آوازوں کی کہانی ہے جو لوگوں تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ ان لوگوں اور مشینوں کی کہانی ہے جو آپ بیتی اور جگ بیتیاں آپ تک پہنچاتے ہیں۔ اور ان حالات کی کہانی ہے جس میں وہ ایسا کر پائے۔
کہتے ہیں کہ خبر کی کہانی انٹر نیٹ ،ٹی وی اور اخبارات کے دور سے کہیں پرانی ہے۔ یہ وہ سادہ آلات ہیں جن کے ذریعے غاروں کے زمانے کاسیدھا سادہ انسان خبر سننے اور سنانے کا شوق پورا کرتا تھا۔ کبھی تصویریں ،کبھی موتی۔ کبھی سیدھا سادا ڈھول۔ اور کبھی ایلچی اور ہرکاروں کی مدد سے۔ اور پھر 1450میں جرمنی کے ایک گولڈ سمتھ گوٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کر کے جدید نیوز میڈیا کی بنیاد رکھ دی۔
نیویم کی اس گیلری کے سینیئر ایڈیٹر ڈان راس کہتے ہیں کہ اس گیلری کے تین بڑے شعبے ہیں۔ گیلری کے درمیان سے ایک ٹائم لائن گزرتی ہے جسے ہم گیلری کی ریڑھ کی ہڈی کہتے ہیں۔ اس کے نچلے حصے میں شیشے کی الماریوں میں شائع شدہ اوریجنل مواد ،زیادہ تر اخبار اور کچھ رسائل موجود ہیں۔ سب سے پرانااخبار 1545کا ہے۔ اس وقت سے لے کر ہم موجودہ زمانے کے اخبار اور رسالوں تک آتے ہیں۔ تو یہاں تین شیلفوں میں پانچ سو سال سے زیادہ عرصے کے 350اصلی دستاویز رکھے گئے ہیں۔
گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران خبر پر کیا گزری۔ خبروں کی پیشکش اور فراہمی کا انداز کیسے تبدیل ہوا۔ صحافت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں کوصحافت سے کیا شکایات رہیں۔ نیوز ہسٹری گیلری میں یہ اور اس جیسے کچھ اور سوالات زیر بحث لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ ۔ جیسے میدان جنگ سے خبریں فراہم کرنے والے صحافی کن حالات میں کام کرتے ہیں۔
نیوز ہسٹری گیلری کے سینئیر ایڈیٹر ڈان راس جو خود بھی طویل عرصے تک صھافت سے وابستہ رہے ہیں ،کہتے ہیں کہ صحافی کی پسند ناپسند اور ذاتی رائے کا اثر اس کے کام میں نظر تو آسکتا ہے مگر غیر جانبدار یا بامقصدصحافت ایک ایسا مقصد ہے جس کے حصول کی کوشش ضرور کی جاتی ہے لیکن ڈان راس کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ اب خبرکی بناوٹ میں انسانی دلچسپی کا پہلو غالب آتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ 60کی دہائی کے اخبارات یا ٹی وی بلیٹنز دیکھیں تو خبر دینے کا انداز بالکل سادا ہے۔ لیکن آج زیادہ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ خبر کا انسانی پہلو اجاگر کیا جائے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بس یہ عام سی نیوزسٹوری کو زیادہ انسانی چہرہ دینے کی کوشش ہے۔
ڈان راس کہتے ہیں کہ گیلری میں موجود قدیم اخبارات ،صحافیوں کے شناختی بیجز اور فو ٹو گرافس جمع کرنے میں ان کے ساتھ 20 افراد کی محنت شامل رہی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ اہم نیوز سٹوریز گیلری کا حصہ بنائی جائیں۔ ان میں امریکہ کی سیاسی تاریخ کے مشہور زمانہ واٹر گیٹ سکینڈل اور ان صحافیوں کا ذکر بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں صدر نکسن کووہائٹ ہاوس سے رخصت ہونا پڑاتھا۔
کیا صحافی اتنے ہی قابل اعتبار ہوتے ہیں ؟ڈان راس کا کہنا ہے کہ میں چونکہ خود ایک صحافی تھا اس لئے میرا یقین ہے کہ ہاں۔ صحافیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ حالیہ سالوں میں کچھ ناقابل رشک مثالیں سامنے آئی ہیں۔ ایسے رپورٹرز کی جنہوں نے جھوٹی خبریں گھڑیں۔ ایک یو ایس اے ٹوڈے کے لئے کام کرتا تھا اور دوسرا نام جیسن بلئیر کا ہے۔ جو نیو یارک ٹائمز کے لئے کام کرتا تھا۔ مگر زیادہ تر صحافی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اپنی زمہ داری ایمانداری سے ادا کریں۔
ڈان راس سمیت میڈیا کےزیادہ تر ماہرین سمجھتے ہیں کہ خبروں کی پیشکش کے انداز پر جدید ٹیکنالوجی بھی اثر انداز ہوئی ہے مگرآج کی نیوز میڈیا انڈسٹری کسی ملک ، لابی یا پریشر گروپ کے دباو کے تحت پالیسیاں تر تیب دینے پر مجبور نہیں۔ تاہم ڈان راس مانتے ہیں کہ ہر اخبار اپنی آزاد یا قدامت پسند پالیسی کی وجہ سے جانا جاتا ہےاور بعض اوقات یہی قارئین میں اس کی مقبولیت اورسرکولیشن کا سبب ہوتا ہے۔