پہلے صدارتی مباحثے کے دوران سینیٹر جان مک کین اور سینیٹر باراک اوباما نے خارجی امور اور امریکی معیشت پر اظہار خیال کیا۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق کم از کم 75 فی صد لوگوں کا خیال ہے کہ باراک اوباما اور جان مک کین ،دونوں صدر کے طور پر فرائض بھرپور طریقے سے ادا کر سکیں گے۔ لیکن سروے میں حصہ لینے والے افراد میں سے 51 فی صد کی رائے کے مطابق مباحثے کے دوران جان مک کین کی نسبت باراک اوباما کا پلڑا بھاری رہا۔ قومی سلامتی کے موضوع پر جان مک کین نے اوباما پر 4 پوائنٹ کی برتری حاصل کی، لیکن معیشت کے موضوع پر اوبام کو مک کین پر 21 پوائنٹ سے سبقت رہی۔
عراق میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کے موضوع پر دونوں امیدواروں میں اختلاف رائے تھا۔ جان مک کین کا کہنا تھا کہ عراق میں مزید فوج بھیجنے سے بہت فائدہ ہوا ہے، لیکن اوباما نے اس خیال کو درست تصور نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو آپ نے کہا کہ یہ جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ بقول آپ کے، آپ جانتے تھے کہ تباہ کن ہتھیار کہاں کہاں پوشیدہ ہیں ۔ آپ دونوں ہی باتوں میں غلط ثابت ہوئیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ عراقی ہمارا استقبال کریں گے، لیکن یہاں بھی آپ کی رائے غلط نکلی۔
اوباما نے کہا کہ عراق کو افغانستان پر ترجیح دینے کی وجہ سے موجودہ حکومت اب تک اوسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ خارجی امور پر بحث کے دوران دونوں امیدواروں نے پاکستان کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت پاکستان نے نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف پاکستان کی سرحد پر کاروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مک کین کا کہنا تھا کہ اوباما کو پاکستان میں فوجی کارروائی کی اجازت کی بجائے تعاون کی بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے، اور ایسی باتیں کرنی بھی نہیں چاہیئں۔ اگر کچھ کرنا ہو، تو حکومت پاکستان کے تعاون کے ساتھ کرنا چاہیے۔
جبکہ براک اوباما کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ اگر امریکی حکومت کو القائدہ کے ارکان، یا اوسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات ہوں، اور پاکستان کوئی کارروائی نہ کرے تو امریکہ کو ہی ان دہشت گردوں پر حملہ کر دینا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ حکمت عملی درست ہے۔
جارجیا پر روس کے چڑھاو کے موضوع پر دونوں امیدواروں ناپنے آپ کو زیادہ مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کی۔
اس کے علاوہ دونوں امیدواروں نے ایران کے ساتھ امریکی تعلقات کے موضوع پر بھی اپنے نظریات بیان کیے۔ سینیٹر اوباما اور سینیٹر مک کین دونوں کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ لیکن اوباما کے ایرانی صدر احمدنژاد سے ملاقات کے فیصلے کو بھولا پن کہتے ہوئے مک کین نے اس پر سوال اٹھایا۔
براک اوباما کا کہنا تھاکہ جب میں نے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی بات کی تو اسے بھولے پن کا نام دیا گیا۔ لیکن غور کیجیے کہ حال ہی میں صدر بش نے خود ایک سینئر سفیر، بل برنز، کو اسی موضوع پر یورپی ممالک کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لیےبھیجا ہے۔
صدارتی انتخابات سے قبل سینیٹر مک کین اور سینیٹر اوباما کے درمیان ایسے دو اور مباحثے ہوں گے۔ اور نائب صدر کے عہدے کے امیدواروں کے درمیان اس انتخاب کا واحد مباحثہ اس ہفتے ہو گا۔