میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتخابات کے سلسلے میں گذشتہ جمعرات کے نائب صدارتی مباحثے کو دیکھنے والوں کی تعداد پہلےصدارتی مباحثے سے بھی زیادہ تھی۔ بہت سے لوگ اس مباحثے کے ذریعے یہ فیصلہ کرنا چاہتے تھے کہ وہ اپنا ووٹ کس پارٹی کے حق میں استعمال کریں۔ موجودہ انتخابات میں نوجوان ووٹرز کو خاص اہمیت حاصل ہے اور دونوں صدارتی امیدوار براک اوباما اور جان مک کین انہیں اپنی جانب مائل کرنے اور پولنگ اسٹیشنوں پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ری پبلیکن پارٹی کی نائب صدارتی امیدوار سیرا پیلین اور ڈیموکریٹک جو بائیڈن کے درمیان مباحثے میں معیشت، عراق ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دوسرے امور پر نمایاں طورپر اختلافات دیکھنے میں آئے۔
عراق جنگ کے حوالے سے جوبائیڈن کا کہناتھا کہ اوباما عراق سے اپنی فوجیں جلد واپس بلانے کے عہد پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ جنگ ختم کریں گے جبکہ جان مک کین کے ہاں اس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا۔
فلسطین کے حوالے سے جوبائیڈن کا کہناتھا کہ اس تنازع میں بش انتظامیہ کی پالیسی ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔ جبکہ اس موقع پر سیرا پیلین نے براک اوباما کی پالیسی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس مباحثے کو جہاں ٹی ویژن پر لاکھوں ناظرین نے دیکھا وہاں بہت سے افراد مباحثے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے اس ہال میں گئے جہاں نائب صدارت کے دونوں امیدوار آمنے سامنے تھے۔ ان میں ایما لٹز مک کنا بھی شامل تھیں جنہوں نے ایک تنظیم کی وساطت سے اس کا ٹکٹ حاصل کیا تھا۔ ایما کا کہنا ہے کہ جب مباحثے کا آغاز ہوا تو اس وقت تک ان کی حیثیت ایک آزاد ووٹر کی تھی اور ان کا جھکاؤ کسی امیدوار کی جانب نہیں تھا۔
مباحثے کے بارے میں اپنے تجربے کا ذکرکرتے ہوئے ایما نے کہا کہ جب مختلف امور پر دونوں امیدوار اپنے نظریات پیش کرتے تھے تو میرا جھکاؤ کبھی ایک جانب ہوجاتا تھا تو پھر کبھی دوسری جانب۔ یہ ایک طرح کا رولر کوسٹر کا تجربہ تھا۔
رولر کوسٹر کا یہ سفر جاری رہا اور ہال میں موجودسیرا پیلین کے حامی تالیاں بجا کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔ کسی ٹھوس فیصلے پر پہنچنے کے لیے غالباً وہ ایک مشکل صورت حال تھی جہاں ماحول واضح طورپر گورنر سیرا کے حق میں تھا۔
مباحثے کی شام کی سب سے بڑی تقریب گورنر پیلین کا وہ خطاب تھا جو انہوں نے مباحثے کے بعد کیا۔ انہوں نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ گورنر کی تقریر کے بعد جب ہجوم ان سے آٹوگراف لینے اور ان کے ساتھ اپنی تصویر اتروانے کے لیے آگے بڑھا تو ایما وہاں سے نکل آئیں ۔ انہوں نے اپنا فیصلہ کرلیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مباحثے کے بعد مجمع کے رویے نے اس فیصلے پر پہنچنے میں ان کی مدد کی۔
ایما کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس مباحثے کو شطرنج کے ایک کھیل کی طرح دیکھیں تو سیرا جیت گئی تھیں لیکن جو کچھ سیرا نے کہا اور ہجوم میں جو کچھ میں نے سنا، میں اس کے بعد سے اوباما کی حامی بن گئی ہوں۔
رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ پہلے صدارتی مباحثے میں براک اوباما کو سینیٹر جان مک کین پر نمایاں برتری حاصل رہی۔