زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
سہیل انجم (دہلی)، یوسف جمیل (سری نگر) October 6, 2008
کشمیر میں احتجاج (فائل فوٹو)
پاکستانی صدر آصف زرداری نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں سرگرمِ عمل عسکریت پسند دہشت گرد ہیں۔ اس بیان پر بھارت میں متضاد ردِعمل سامنے آیاہے۔
سری نگر سے وائس آف امریکہ کے نمائندے یوسف جمیل نے اطلاع دی ہے کہ صدر زرداری کے بیان پر کشمیری تنظیموں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کئی مقامات پر زرداری کے پتلے جلائے گئے ہیں۔ سری نگر میں اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے سربراہ شکیل احمد نے کہا کہ ایک ایسے پاکستانی حکمران سے کشمیری کیا توقع رکھ سکتے ہیں جس پر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہوں اور جو کئی سکینڈلوں میں ملوث رہا ہو۔
قوم پرست جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین بشیر احمد نے آصف زرداری کے بیان کو مضحکہ خیز اور مذموم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے لیے لاکھوں جانیں قربان کرنے والے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو ایسے ’بیوقوفانہ‘ بیانات سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم بھارتی حکومت نے آصف زرداری کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ پڑوسی ملک دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے وعدے کی پاس داری کرے گا۔
وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور آنند شرما نے دہلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا صدر آصف زرداری کا یہ بیان کہ کشمیر میں سرگرم عناصر دہشت گرد ہیں، شاید پاکستان کے کسی بڑے رہنما کااس ضمن میں پہلا بیان ہے، جس سے بھارت کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔
ادھر وفاقی وزیرِ اطلاعات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ صدر زرداری کے بیان کو درست پیرائے میں نہیں پیش کیا گیا۔