ٹائیوانی فوجی امریکی ٹینکوں سے جنگی مشقیں کر رہے ہیں
چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیار بیچنے کے فیصلے سے چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہوں گے۔ چین کے وزیر ِ خارجہ نے امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی سازوسامان فروخت کرے گا۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے۔ امریکی محکمہٴ دفاع نے گذشتہ ہفتے کروڑوں ڈالر کے میزائل، ہیلی کاپٹر اور دوسرا فوجی سامان تائیوان کو فروخت کرنے کے منظوری دی تھی۔ امریکی اور تائیوانی قانون سازوں نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی تاہم چینی حکام نے فوری طور پر اس کی مذمت بھی کر دی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان قِن گیَنگ نے کہا کہ اس اقدام سے چین کی سلامتی کو خطرہ ہے اور یہ امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات پر نہایت برا اثر مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے نتائج خطرناک ہوں گے اور امریکہ کے اس اقدام سے چین امریکہ تعلقات کے ہر پہلو کو نقصان ہوگا۔ پینٹگان کا کہنا ہے کہ چین نےامریکہ کے ساتھ کئی فوجی اور سفارتی تبادلے یا تو منسوخ کر دئے ہیں یا ملتوی۔ چین نے سینکڑوں میزائلوں کا رخ تائیوان کی طرف کر رکھا ہے اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اس جزیرہ کو چین کا حصہ بنا کر رہے گا، خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دونوں مملکتوں میں علاحدگی اسوقت ہوئی جب1949 ء میں چین میں کمیونسٹوں نے خانہ جنگی میں فتح حاصل کی تو قوم پرست جماعتوں نے بھاگ کر تائیوان میں پناہ لی تھی۔ امریکی قانون کے مطابق حکومت کو اختیار ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی ہتھیار فروخت کرے۔ پینٹگان کا کہنا ہے کہ مجوّزہ منصوبہ قانون کے عین مطابق ہے۔