پاکستان کی سرحد پر امریکی افواج کی یک طرفہ کاروایئوں کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا القائدہ بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ یہ بات واشنگٹن ڈی سی کے 13 تھنک ٹینکس کے نمائندوں اور سیاسی ماہرین پر مشتمل پاکستان پالیسی ورکنگ گروپ نے امریکی حکومت کے لیے پاکستان سے منسلک خارجہ پالیسی کے موضوع پر چند تجاویز پیش کرتے ہوئے کہی۔یہ تجاویز صدر بش کی حکومت کی پالیسیوں کے نتائج، اور پاک افغان سرحد پر انسداد دہشت گردی کے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے پیش کی گئیں۔
امریکہ کے صدارتی انتخابات سے کچھ ہفتوں قبل پیش کی جانے والی تجاویز کی یہ رپورٹ نومبر میں منتخب ہونے والی حکومت کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ ورکنگ گروپ کی ایک سربراہ لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف امریکی افواج کی یک طرفہ کاروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خلل آ سکتا ہے بلکہ دہشت گرد بھی اتحادیوں کے تعلقات میں اس کشیدگی کا فائدہ لے سکتے ہیں۔
لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد پر امریکی افواج کی یک طرفہ کاروائیوں کی وجہ سے پاک امریکی تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے، اس کا القائدہ یقینا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ہم نے اپنی رپورٹ میں اس خطرے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
لیزا کرٹس نے کہا کہ پاکستان کے لیےسالانہ 1.5 ارب ڈالر مالی امداد مختص کرنے کے علاوہ امریکی حکومت کو پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک فوج کو مناسب ہتھیار بھی مہیاکرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے جو خدشات ہیں، ان کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں امریکی حکام کو کچھ ٹھوس اقدام کرنے ہوں گے۔
لیزا کہتی ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکام کو پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے ادامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، اور جوہری مسائل پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کا تعاون باہمی مفاد پر مبنی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہم نے اس رپورٹ میں پیش کی ہے۔
لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔لیکن امریکہ کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
اسی موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے ورکنگ گروپ کے ایک دوسرے رکن جے ایلیکزینڈر تھیئر کے نے کہا کہ ورکنگ گروپ نے پاکستان اور امریکی افواج کے اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے امریکی حکام کہ فوجی تعاون کو مزید ستحکم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی کاروائیوں کے سلسلے میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے نمائندوں کوایک ساتھ مل کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس پر کچھ برسوں سے تبادلہ خیال ہو رہا ہے، لیکن اب اسے عمل میں لانے سے ان تینوں ممالک کے تعاون کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
فوجی امداد کے علاوہ ورکنگ گروپ نے پاکستان کے لیے مالی امداد میں اضافے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بجٹ، قرضوں کی ادائگی اور فوجی کاروائیوں کے لیے مالی امداد دینے کے علاوہ پاکستان کی معیشت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مالی امداد کا بیشتر حصہ پروجیکٹ ایڈ کی صورت میں دینا چاہیے، تاکہ پاکستان کے شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کو فائدہ ہو، اور عوام تک بجلی اور پانی جیسی سہولتیں پہنچائی جا سکیں۔ پاکستانی عوام مالی امداد سے اسی صورت میں مستفید ہو سکتی ہے۔ یہی تجاویز ہم نے اپنی رپورٹ میں بھی پیش کی ہیں۔ لیزا کرٹس نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹا ئیل انڈسٹری کو امریکہ کے ساتھ تجارتی مراسم بڑھانے کا موقع دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امداد فراہم کرنے کا یہ منصوبہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے اگر اس کے نتیجے میں پاکستانی عوام کے حالات میں کوئی تبدیدلی واقع ہو۔