امریکی مالیاتی بحران نے اب آٹو انڈسٹری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور موٹر گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے کمی ہورہی ہے جس کے نتیجے میں آٹوانڈسٹری سے منسلک لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور کئی بڑے بڑے پلانٹ بند ہوگئے ہیں۔ امریکہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں موٹر گاڑیوں کے بڑے بڑے شو رومز موجود ہیں اور ان میں کچھ عرصہ پہلے تک بہت گہماگہمی اور رونق نظر آتی تھی مگر اب وہاں ویرانی بڑھ رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اب قرضے ملنا دشوار تر ہوگیا ہے جبکہ امریکہ میں گاڑیوں کی فروخت بالعوم بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں پر ہوتی ہے۔
جے سٹورٹز مشی گن میں فورڈ کمپنی کے سیلز منیجر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں 90 کی دہائی سے اس شعبے سے وابستہ ہوں مگر اب میرے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔
سٹورٹز کا کہنا ہے کہ کمپنوں نے وصولی یقینی بنانے کے لیے قرض کی شرائط بہت سخت کردی ہیں اور ان تین چار مہینوں میں تو انہوں نے یقینی طورپر قرض دینے سے اپنا ہاتھ ہی کھینچ لیا ہے۔
فروخت میں کمی کے باعث کارکمپنیاں اپنی پیداوار گھٹانے اور کارکنوں میں چھانٹی کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ اس عشرے میں مشنی گن میں پہلے ہی آٹو انڈسٹری سے وابستہ تقریباً دو لاکھ ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں۔ ڈیٹو رائٹ کی تین بڑی کمپنیوں کو پچھلے چار برسوں میں ایک کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے۔ آٹو موٹوو نیوز پبلیشر کیتھ کرین کا کہناہے کہ صورت حال بہت خراب ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ گاڑیوں کے کاروبار کو اس وقت مشکلات کا سامناہے اور میرا خیال ہے کہ استحکام آنے تک یہ صورت حال جاری رہے گی۔کرین کا کہنا ہے کہ آٹوانڈسٹر پہلے ہی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کانشانہ بنی ہوئی ہے۔
ڈیٹو رائٹ کی کمپنیوں کو پہلے ہی تیل کی اونچی قمیتوں سے شدید دھچکا لگ چکاہے۔
تجزیہ کاروں کا کہناہےکہ وہ تین کمپنیاں چھوٹی کاریں نہیں بناتیں جس کی وجہ سے وہ ایک عرصے سے نقصان میں جارہی ہیں۔ سٹورٹز کا کہناہے کہ کئی ڈیلرز نے اپنا کاروبار بند کردیا ہے۔ وہ لوگ جن کا سلسلہ بہت پھیلا ہوا تھا اور وہ تھوڑا ہی آگے گئے تھے ۔ جب آمدنی کے ذرائع بند ہوجائیں تو آپ کو اپنی پونجی سمیٹنی ہوتی ہے۔اگر آپ اس طوفان کی زد میں ہیں تو مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ڈیٹو رائٹ کا منظر اب یہ ہے کہ فیکٹریاں بند ہورہی ہیں ، گھروں پر برائے فروخت کے بورڈ لگے ہوئے ہیں
ڈیٹو رائٹ کے رہائشی جنہیں پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے ، ملازمتوں میں مزید کٹوتیوں، مزید فیکٹریوں کی بندش اور مزید گھروں کی قرقی کے خوف میں مبتلا ہیں۔