امریکہ میں زیر حراست پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستانی سینیٹروں کے ایک وفد سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ ان کی امریکہ سے کوئی دشمنی نہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک طبی حراستی مرکز میں زیر علاج ڈاکٹر صدیقی نے واضح طور پرانہیں بتایا کہ وہ امریکہ کی دشمن نہیں ہیں۔ انہوں نے یہاں 12 سال گزارے ہیں اور اس دوران یہاں انہوں نے جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارا، ان کی بہت اچھی یادیں ہیں۔
البتہ ڈاکٹر صدیقی کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔
منگل کو سینیٹر مشاہد حسین کی سربراہی میں پاکستانی سینیٹرز کے ایک وفد نے ڈاکٹر صدیقی سے ملاقات کی تھی۔
بدھ کو نیو یارک میں اس ملاقات سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں سینیٹر مشاہد حسین نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے واضح طور پر بتایا ہے کہ انہیں گزشتہ پانچ سال افغانستان میں بگرام کے امریکی ہوائی اڈے پر رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا۔
امریکی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جولائی میں افغانستان کے صوبے غزنی میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس سے پہلے پانچ سال انہوں نے کہاں گزارے، اس کا اسے کوئی علم نہیں۔
وفد میں شامل سینیٹر ایس ایم ظفر نے بتایا کہ ڈاکٹر صدیقی بہت کمزور نظر آ رہی تھیں اور ذہنی طور پر پریشان بھی لگ رہی تھیں۔
سینیٹرز نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو کب اور کہاں حراست میں لیا گیا تھا اور کئی سوالات کے جواب میں کہا کہ ابھی پورے حقائق سامنے نہیں آئے۔
پاکستانی وفد نے امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی غیر مشروط رہائی اور پاکستان واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈاکٹر صدیقی کے قانونی اخراجات امریکی حکومت برداشت کر رہی ہے۔
صدر آصف زرداری نے چند روز قبل نیو یارک میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ڈاکٹر صدیقی کے قانونی اخراجات پاکستان کی حکومت اٹھا رہی ہے۔
سینیٹرز کے وفد نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر صدیقی کو امریکہ میں انصاف ملنے کی امید نہیں اور وہ پاکستان واپس جانا چاہتی ہیں۔
ڈاکٹر صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے جولائی میں افغانستان میں ایک امریکی تفتیشی ٹیم پر گولیاں چلائیں اور انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی۔
ان پر نیو یارک کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ عدالت کے حکم پر ان کا طبی علاج اور ذہنی معائنہ کروایا جا رہا ہے جس کے بعد دسمبرمیں عدالت اس کا فیصلہ کرے گی کہ وہ ذہنی طور پر اس قابل ہیں یا نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔