وزیرستان میں مدرسے پر میزائل حملہ، نو افراد ہلاک متعدد زخمی
شمیم شاہد پشاور October 9, 2008
جمعرات کی شب شمالی وزیرستان کے علاقے تَپی کے نواحی گاؤں غُنڈئی میں ایک مدرسے اور حجرے پر نامعلوم سمت سے دو میزائل داغے گئے جِس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
مقامی قبائلیوں نے بتایا ہے کہ مولوی سحر گل اور اُن کے بیٹے سلطان شاہ کے مدرسے اور حُجرے پر میزائل حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ غیر ملکی اور 30مقامی قبائل شامل ہیں۔
میزائل حملے کے بعد متاثرہ علاقے کو مقامی طالبان جنگ جوؤں نے گھیرے میں لے لیا ہے اور قبائل کو قریب نہیں آنے دیتے۔
بتا یا جاتا ہے کہ غیر ملکیوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی، نہ حملے کی ذمے داری کسی نے قبول کی ہے نہ ہی سرکاری طور پر اِس سلسلے میں کوئی بیان جاری ہوا ہے۔
تاہم مقامی قبائل کا موقف ہے کہ دونوں میزائل یا تو بغیر پائلٹ کے جاسوسی طیارے یا سرحد پار افغانستان میں مقیم اتحادی افواج نے داغے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ستمبر کے اوائل میں تَپی گاؤں میں ایک مرکز پر اِسی قسم کے میزائل حملے میں ایک درجن کے قریب جنگ جو ہلاک ہوئے تھے جِن میں القاعدہ کے ایک رہنما سمیت متعدد غیر ملکی انتہا پسند بھی شامل تھے۔