دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا 14 اکتوبر سے شروع ہونے والا دورہ چین باہمی تعلقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا اور اس دورے میں باہمی سرمایہ کاری کے حوالے سے آزادانہ تجارت کی ایک دستاویز پر دستخط بھی کیے جائیں گے جس سے مزید چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب راغب کرنے میں مدد ملے گی۔
دفتر خارجہ میں جمعے کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد صادق نے کہا اس وقت پاکستان اور چین کے درمیان سالانہ سات ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ حجم کو بڑھا کرآئندہ تین سالوں کے دوران 15 ارب ڈالرسالانہ تک لے جایا جائے۔
دورہ چین کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان جوہری تعاون کے کسی نئے معاہدے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمد صادق نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے اس حوالے سے تعاون جاری ہے جس کے بدولت چشمہ کے مقام پر جوہری پلانٹ لگائے گئے ہیں ۔ ان کے مطابق موجودہ پاک چین جوہری تعاون کے پیش نظر کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔
 |
| صدر زرداری برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ |
واضح رہے کہ حلف اُٹھانے کے بعد صدر زرداری نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ اُن کا سب سے پہلا غیر ملکی دورہ چین کا ہوگا اور اس حوالے سے ستمبر کے دوسرے ہفتے میں اُن کے دورہ چین کو تقریباً حتمی شکل دی جا چکی تھی لیکن صدر زرداری خلاف توقع برطانیہ کے دورے پر پہنچ گئے اور وزیر اعظم گورڈن براؤن سے دو طرفہ اُمور پر بات چیت بھی کی۔ اس کے بعد وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک چلے گئے۔ چین کا دورہ موخر کرنے پر آصف علی زرداری کو اندرون ملک حزب مخالف کی جماعتوں اور میڈیا کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس تاثر کو رد کیا کہ ایک ماہ قبل دیر کے علاقے سے اغواء ہونے والے دو چینی انجینئروں کی اب تک بازیابی نہ ہونے کی وجہ سے صدر زرداری کا چین کا دورہ متاثر ہو سکتا ہے۔انُہوں نے کہا حکومت مغوی چینی انجینئروں کی جلدا ور باحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔