وفاقی وزارت پانی و بجلی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن(KESC) کے بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر 71 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے رہائشی، صنعتی، تجارتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے لیے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں اس اضافے کا اطلاق رواں سال یکم اپریل سے کیا گیا ہے جس کے بعد اس مہینے صارفین کو موصول ہونے والے بلوں میں گزشتہ چھ ماہ کے بقایا جات بھی شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان پہلے KESC کو اوسطاََ دو روپے فی یونٹ سبسڈی دیتی تھی جسے رواں سال کے بجٹ میں ختم کر کے صارفین سے وصول کر نے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یکم اپریل اور حکم جولائی سے شروع ہونے والی سہ ماہی میں نیپرا National Electric Power Regulatory Authority نے KESC کو بیس بیس فیصد اضافے کی اجازت دی تھی تا ہم وفاقی وزارت پانی و بجلی نے اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا۔ اب یکم ستمبر سے شروع ہونے والی سہ ماہی میں 31 فیصد اضافے کے ساتھ مذکورہ دو سہ ما ہی کا نوٹفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے KESC کو ملک میں بجلی تقسیم کرنے والی دوسری سرکاری کمپنیوں کے برابر حیثیت بھی دے دی ہے ۔ اب پیپکوPakistan Electric Power Company جس نرخ پر بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بجلی فراہم کرتا ہے KESC کو بھی اسی نرخ پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ خیال رہے کہ KESC کی نجکاری سابقہ حکومت نے نومبر 2005 میں کی تھی ۔ ادارہ کے انتظامی اختیارات نجی شعبے کے پاس ہونے کی وجہ سے پیپکو KESC کو زائد نرخوں پر بجلی فراہم کرتا تھا ۔
![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/Karachi-Electricity.jpg) |
|
کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور ملکی معیشت کا ستر فیصد ریوینیو یہاں سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافے پر عام شہریوں سمیت صنعتی و تجارتی حلقے حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے زیادتی اور ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں۔
ایوان صنعت و تجارت کراچی کے صدر انجم نثار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معیشت پہلے ہی دباوٴ کا شکار اور زوال پذیر ہے ۔ کرنسی پر بھی دباوٴ ہے ایسے میں یہ اضافہ نا قابل قبول ہے ۔ KESC راتوں رات یکا یک تاجروں سے مشورہ کیے بغیر بجلی کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے ۔ اس فیصلے سے ایکسپورٹ بہت زیادہ متاثر ہو گی جس کے آنے والے دنوں میں ملک پر انتہائی برے اثرات ہوں گے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو ایکسپورٹ آرڈر لیے جاتے ہیں ان کے لیے طویل مدت کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ پیداواری لاگت آج کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ اب چھ مہینے پہلے جو آرڈر لیا تھا حالیہ اضافے کے بعد ہم کیسے پورا کر پائیں گے؟ حکومت فوری اس فیصلے کو واپس لے ۔
دوسری جانب کراچی کی تاجر برادری نے اس فیصلے کے مسترد کرتے ہوئے احتجا جاََ رواں ماہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 72 گھنٹے کے اندر اس فیصلے کو واپس لے ورنہ تاجر برادری سراپا احتجاج بن جائے گی اور مارکیٹوں پر تالے ڈال کر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے ۔
کراچی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر صدیق میمن کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال، دہشت گردی اور مہنگائی کے باعث کاروباری صورتحال انتہائی مخدوش ہے ۔ کاروباری گراف 70 فیصد تک گر چکا ہے ایسے میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ غیر معمولی اضافے سے تاجروں کے کاروباری اخراجات میں 250 فیصد اضافہ ہو گا اور صرف تاجروں کو سوا ارب روپے کا اضافی بوج برداشت کرنا ہو گا۔ ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم اتنی مہنگی بجلی استعمال کر کے تجارتی سرگرمیاں جا ری رکھ سکیں۔
![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/KESC-Staffer.jpg) |
|
پاکستان میں توانائی کا بحران انتہائی شدید اور عفریت کی صورتحال اختیار کر چکا ہے ۔ غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ سے صنعتوں میں پیداواری عمل متاثر ہونے کی وجہ سے ملکی معیثت عدم استحکام کی جانب گامزن دکھائی دیتی ہے ۔ ایسے میں ایوان صنعت و تجارت کراچی کے صدر انجم نثار کہتے ہیں کہ پاکستان کو آگے لے جانے کی اب ایک ہی صورتحال ہے اور وہ ہے ایکسپورٹ میں اضافہ ۔ ایکسپورٹ تب سر پلس ہو گا جب ہمارے پاس Energy ہو گی ۔ اور توانائی کی صورتحال آپ کے سامنے ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیموں ، پن بجلی ، شمسی توانائی ، بائیو گیس غرض تمام متبادل ذرائع کو بروئے کار لائے اور سنجیدگی سے کریش پروگرام کے تحت اس مسئلے کو حل کرے۔ اگر دو تین سال میں ہم دو سے تین ہزار میگاواٹ بڑھا لیں تو ہم ایکسپورٹ میں کا میاب ہو جائیں گے۔
دوسری جانب عام شہری بھی بجلی کے نرخوں میں دگنے اضافے پر سخت رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ایک شخص کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب کچھ بھی سستا نہیں رہا ۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت انتہا پر ہے ۔ ہم یہ بل کہاں سے بھریں گے؟
شہریوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے بعد شہر میں بجلی چوری کرنے کی شرح بڑھ جائے گی اور جرائم میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔ یہ فیصلہ قوم کو خودکشی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے اس لیے حکومت اسے فوری طور پر واپس لے۔