 |
| ایرانی وزیر خارجہ منوچہرمتقی نے شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی |
پاکستان نے ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ اُسے خام تیل کی فروخت پر ادا ئیگیوں میں سہولت فراہم کرے تاکہ ملک کو درپیش اقتصادی مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ایرانی وزیرخارجہ منوچہر متقی کے درمیان دفتر خارجہ میں ہونے والی ملاقات کی بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں منوچہر متقی نے کہا کہ ایرانی قوانین خام تیل کی برآمد پر ادائیگیوں کو تین ماہ تک موخر کرنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن اُنہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کویقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی قیادت اور کابینہ سے صلاح مشوروں کے بعد نہ صرف پاکستانی درخواست پر غور کیا جائے گا بلکہ پاکستان کے لیے ادائیگیوں کو موخر کرنے کی معیادبڑھانے کے لیے کوشش بھی کی جائے گی۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ایران خام تیل پر ادائیگیوں کوموخر کرنے کی پاکستانی درخواست کو مان لیتا ہے تو اس سہولت سے نہ صرف پاکستان کی اقتصادی مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے اندرونی ادائیگیوں کے توازن میں بھی بہتری آئے گی۔
خیال رہے کہ پاکستان نے سعودی عرب سے بھی کچھ ایسی ہی سہولت کی درخواست کر رکھی ہے اور بعض حکومتی عہدیداروں نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ کہ سعودی عرب نے پاکستان کی درخواست کو قبول کر لیا ہے لیکن ابھی سعودی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
وزارت خزانہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسی سہولتیں ملنے سے بیرونی قرضوں اور درآمدی بلوں کی ادائیگیوں سے متعلق بحران کو کم کرنے میں آسانی ہو گی کیونکہ نئی حکومت کو تقریبا ًتین ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی کے لیے ضرورت ہیں۔
ایرانی اور پاکستانی وزراء خارجہ نے جمعے کو اسلام آباد میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں اُس مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کا اعلان بھی کیا جس کے تحت ایران سے قدرتی گیس پاکستان کو برآمد کی جائے گی ۔اس منصوبے کے تحت ایرانی قدرتی گیس بھارت کو بھی دینے پر بات چیت چل رہی ہے لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے پس وپیش کے بعد ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ اب اُن کے ملک نے پاکستان کی ساتھ دوطرفہ طور پر گیس پائپ لائن بچھانے کا ارادہ کر لیا ہے لیکن اگر کسی مرحلے پر بھارت اس منصوبے میں شامل ہونا چاہے گا تو اُس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ تقریبا ًآٹھ ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی اس گیس پائپ لائن منصوبے کی امریکہ مخالفت کر رہا ہے کیونکہ اس کی تعمیر سے ایران کو سفارتی اور سیاسی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
امریکہ کا موقف ہے کہ ایران کے متنازعہ جوہر ی پروگرام کی وجہ سے تہران کی ساتھ اس طرح کے اقتصادی منصوبے اُس کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے لیکن ایرانی قیاد ت امریکہ کے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دے کر رد کرتی ہے۔