عراقی سیاست دان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا: نوری المالکی
October 10, 2008
نوری المالکی
جمعے کے روز ایک عراقی سیاست دان صلا ح العقیلی کا جنازہ بغداد کی سٹرکوں سے گذرا جو جمعرات کو سڑک کنارے بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
صلا ح العقیلی کاجنازہ ان کی سیاسی پارٹی کے دفتر تک لے جایا گیا۔ ان کا تعلق اس شیعہ فرقے سے تھا جس کی قیادت مقتدیٰ الصدر کرتے ہیں۔
الصدر تحریک کے کچھ لوگوں نے ان کے قتل کا الزام عراق میں امریکی قیادت کی فوج کی موجودگی پر عائد کیا ہے۔
امریکی عہدے داروں سفیر ریان کراکر اور جنرل ریمنڈ اوڈیرینو نے اس ہلاک کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین جرم اور عراقی جمہوری اداروں پر حملہ قرار دیا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی مقرر کررہے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
جمعے ہی کے روز نوری المالکی نے نجف میں عراق کے سب سے بااثر شیعہ عالم آیت اللہ علی السیستانی سے ملاقات کی۔ دونوں نے عراق میں امریکی فوجیوں کی مستقبل میں موجودگی کے معاہدے کے بارے میں بات چیت کی۔
سیستانی سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر پارلیمنٹ اور حکومت نے امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق معاہدے کی منظوری دے دی تو وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔