عسکریت پسندوں کیلے عام معافی کا مطالبہ بھولپن ہے: مبصرین کی رائے
اسد حسن واشنگٹن October 11, 2008
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسیٹی انٹرنیشنل پاکستان کے صدر کی جانب سے عسکریت پسندوں کو معاف کرنے اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نہ صرف ملکی سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف متواتر کارروائیاں جاری ہیں بلکہ مختلف لشکروں کی صورت میں کمر کس رہے ہیں
وائس آف امریکہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کے صدر فیاض الرحمن نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی ایک فرد کی سوچ نہیں بلکہ تنظیم کے بین الاقوامی سیکریٹیریٹ سے توثیق کے بعد اس کا اعلان کیا گیا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ لڑائی جھگڑوں اور جنگوں کا حل مسلمہ طور پر مذاکرات میں ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں انسانی زندگی مشکلات سے دوچار ہے اس لیے تنظیم کیسی تخصیص کے بغیر تمام گروہوں کے ساتھ بات چیت کا مشورہ دیتی ہے اور اس ضمن میں مصالحتی کردار کی بھی پیشکش کرتی ہے۔
فیاض الرحمن نے کہا کہ جب سے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے جارحانہ کارروائیاں شروع کی تب سے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور کئی جانیں جا چکی ہیں اور لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن اور سابق نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر انصار برنی نے ایمنسٹی انٹرنیشل کے مطالبے پر اپنے ردعمل کے اظہار میں کہا کہ عسکریت پسندوں کو عام معافی دینا قطعی انصاف نہ ہو گا اگر ایسا کرنا ہے تو جیلوں میں موجود قیدیوں کا کیا قصورہے انہیں بھی رہا کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند تو نجی جیلیں بنا کر عام شہریوں کو قید میں ڈالنے جیسے اقدامات میں ملوث ہیں اور انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
فاٹا کے سابق سیکیورٹی چیف بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطالبے پر تنقید کی اور کہا کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مصالحت کی باتیں کرنا محض بھولپن ہے ۔ اور جو لوگ انہیں معاف کر دینے کی بات کرتے ہیں و ہ بچیوں کے سکول جلائے جانے سے لے کر عام شہریوں کی زندگیوں کو وبال بنانے کے ذمے داروں کی کارروائیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔