عسکریت پسندوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کا مطالبہ
افضل رحمن لاہعر October 11, 2008
حقوقِ انسانی کی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کے صدر فیاض الرحمٰن نے ہفتے کو لاہور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصالحت کو اپنے ایجنڈا میں سرِ فہرست رکھا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ پچھلے پچاس برسوں میں دنیا کے تمام بڑے مسائل کا حل مصالحت کی میز پر نکلا ہے۔’اِس مصالحتی عمل کے لیے، میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی خدمات پیش کرتا ہوں۔‘
بند کمرے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو دی جانے والی بریفنگ کا فیاض الرحمٰن نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ اِس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے بریفنگ کو ایک قومی کانفرنس میں تبدیل کرکے تمام جماعتوں کو اِس میں شریک کیا جانا چاہیئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کے صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان میں 50سے زیادہ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے والے قید خانے موجود ہیں جِن کو فوراً بند کیا جانا چاہیئے۔
فیاض الرحمٰن کی اخباری کانفرنس پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بارہا اپنا یہ موقف بیان کر چکی ہے کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے، اور یہ کہ طاقت کا استعمال محض آخری حربے کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں ہے۔