واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے آس پاس روزانہ ہزاروں نئے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر کا منظر بھی ہر چند سال کے بعد بدل جاتا ہے لیکن گذشتہ تین دہائیوں سے وائٹ ہاؤس کے عین سامنے ایک خاتون کا بسیرا اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ان کا پر امن احتجاج نہیں بدلا۔ آزادی اظہار رائے کی یہ دلچسپ مثال دنیا کے ہر کونے سے آنے والے سیاح روزانہ دیکھتے ہیں۔
1960 میں سپین سے امریکہ آنےوالی کونی کئی برس تک نیویارک میں اپنی حکومت کے لیے کام کرتی رہیں لیکن شوہر سے طلاق اور اپنی نومولود بچی کی جدائی نے ان کی زندگی بدل دی۔ مدد کی تلاش میں انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کا رخ کیا جہاں انہیں زندگی کی مزید تلخیوں کا احساس ہوا۔
امریکی آئین میں موجود پہلی ترمیم عوام کو آزادی اظہاررائے کا حق دیتی ہے جس کی مدد سے کونی پچھلے 27 سال سے لوگوں کو جوہری ہتھیاروں کے خوفناک اور بھیانک نتائج کے بارے میں خبردار کررہی ہیں۔ اسے وہ اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ لیکن انہیں اپنے اس فرض کی ادائیگی کے سلسلے میں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
حکومت کی طرف سے جاری ایک اجازت نامے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سامنے ان کا قیام قانونی ہے۔ لیکن کونی کے لیے اس قیام میں آرام نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ ان سے مل کرایک ایسے تنہا سپاہی کا خیال آتا ہے جو گرمی ، سردی ، دھوپ او بارش کی پروا کیے بغیر اپنے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔
یہاں آنے والے سیاح کونی کی بے باکی سے خوش بھی ہوتے ہیں اور حیران بھی۔ مگر وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ اس احتجاج کی وجہ سے حکومتی اہل کار ان سے نا خوش ہیں۔
27 سال سے احتجاج کے باوجود حکومتی سطح پر کونی کوئی بل پاس کرانے میں کامیاب ہوئی ہیں اور نہ ہی ان کے احتجاج میں مزید افراد شامل ہوئے ہیں۔ لیکن وہ خود کو ناکام تصور نہیں کرتیں۔ وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہیں کہ وہاں آنے والے بہت سے افراد کم ازکم کچھ لمحوں کے لیے اس اہم مسئلے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجائیں اورشاید یہی وہ جذبہ ہے جو انہیں اپنے محاذ پر ڈٹے رہنے کی اجازت دیتا ہے۔