جیسے جیسے انتخاب قریب آرہے ہیں صدارتی دوڑ میں شریک دونوں بڑی پارٹیوں کے امید واروں،ریپبلیکن جان مک کین اور ڈیموکریٹ براک اوباما کی جانب سے ٹیلی وژن پر چلائی جانے والے اشتہاری مہم میں تیزی آرہی ہے اور اشتہاروں کی زبان اور لب ولہجہ سخت ہوتا جارہاہے۔
کئی مہینوں سے دونوں صدارتی امیدواروں کی انتخابی مہمات میں امریکی عوام کو دو الفاط خاص طورپر بار بار سننے پڑ رہے ہیں اور وہ ہیں ، Change اور MAVERICK۔
اب جبکہ انتخاب میں تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں،ایک دوسرے پر تنقید کے لیے دونوں امیدواروں کا ٹیلی وژن کے اشتہاروں پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ اس مہم کا مقصد مخالف امیدوار کی خامیوں کو اچھال کر اپنے کامیابی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدور جان مک کین کے ایک ٹی وی اشتہار میں یہ بات زور دے کرکہی گئی ہے کہ براک اوباما اپنے خیالات کے سچ نہیں بتاتے۔
دوسری جانب براک اوباما کے ایک ٹیلی وژن اشتہار میں جان مک کین کو جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
امریکہ اس وقت جس معاشی اور مالیاتی بحران سے گذر رہاہے، اس کے پیش نظر اکثر لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کردے گی۔ عام افراد کے ان خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے صدارتی امیدوار براک اوباما کی اشتہاری مہم میں اس حوالے سے جان مک کین کی سفارشات کو ایک منفی انداز میں پیش کیا جارہاہے۔ اس کے جواب میں جان مک کین کی اشتہاری مہم میں اوباما کو ٹیکس کی رقوم کا بے دردی سے استعمال کرنے والے ایک سیاست دان کے روپ میں پیش کیا جارہاہے۔
اوباما ان الزمات کی بار ہا تردید کرچکے ہیں۔
کچھ ٹی وی اشتہاروں میں اپنے حریف کی تقاریر سے بعض مخصوص جملے نکال کر استعمال کیے گئے ہیں اور ان کے الفاط کے انہی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ ان میں افغان اور عراق جنگ کے حوالے سے بیانات کو بطورخاص چنا گیا ہے۔
جیسے جیسے ووٹنگ کا دن قریب آرہاہے، دونوں صدارتی امیدوار ان ووٹروں تک پہنچنے اور ان کا ووٹ جیتنے کی کوششوں میں اضافہ کررہے جنہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں گے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ دونوں صدارتی امیدواروں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کو شائستگی کےساتھ چلائیں گے ، مگر دونوں ہی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔