اس رپورٹ کی ویڈیو
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی مراحل جاری ہیں اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ امیدوار اپنی اپنی پارٹی کی صدارتی نامزدگی جیتنے کے لئے سرگرم ہیں ۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دوران ووٹروں کے سامنے چند پرکشش سلوگن پیش کئے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں مارکیٹنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔ ان سلوگنز کو ڈیزائن کرنے میں بڑی مہارت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
مثلاً صدارتی امیدوار جان مک کین اپنے لیے اس سلوگن کا استعمال کرتے ہیں ۔ ’’میں ریگن انقلاب کے دور میں ادنی سپاہی کے طور پر سیاست میں داخل ہوا۔‘‘
صدارتی امیدوار اپنی شخصی خوبیاں اور پالیسی پوزیشن اسی طرح پبلک کے سامنے پیش کرتے ہیں جیسے آپ کو پیزا اور کار وں کے اشتہاروں میں دیکھنے کو ملتے ہوں ۔ اسے پولیٹیکل مارکیٹنگ کہتے ہیں ۔
سینیٹر باراک اوباما نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پرصدارتی دوڑ میں داخل ہونے کا اعلان اس سلوگن سے کیا۔ میری مہم کا مقصد شہریت کو نئے معنی دینا ہے ۔
ریاست الیو نائے میں ہونے والی ایک تقریب کو ویڈیو کی شکل میں پیش کیا گیا ۔ اس ویڈیو کی فلم بندی اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں مسکراتے چہرے ،خوبسورت رنگ ،ولولے سے تمتماتے لوگ دکھائی اور اوباما کے پر جوش الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو کا مقصد اوباما کے حق میں عوامی جوش اور حمایت حاصل کرنا ہے۔
ایک اور سلوگن ملاحظہ ہو۔ اگر مجھے اوباما کی حمایت میں پیدل بھی آئیوا جانا پڑے تو بھی میں جاؤں گا۔
ایک اور سلوگن دیکھئے ۔’’ہماری قوم کو اوباما کی ضرورت ہے۔‘‘
ان سلوگنز کا ووٹروں پر کیا اثر ہوتا ہے ؟ اس کا جائزہ لیا ہے ہیریٹیج فاونڈیشن کے تجزیہ کار برائن ڈارلنگ نے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلا مرحلہ امیدوار کے لئے پسندیدگی پیدا کرنا ہے۔ جب ووٹر امیدوار کو پسند کرتا ہے تو اسے ووٹ بھی دینا چاہتا ہے۔ لیکن یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ امیدوار ایسے اصول اور پالیسیوں پر بات کریں جو ووٹروں کے لئے دلچسپ اور قابل قبول ہوں ۔
ڈیمو کریٹک پارٹی کے میڈیا کنسلٹنٹ پیٹر فن کے مطابق ضروری ہے کہ امیدوار اتنے سادہ انداز میں بات کرے کہ ووٹراسے باآسانی یاد رکھ سکیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ پیغام اتنا واضح اور مختصر ہو کہ ووٹر کے دل کو چھو جائے اور مخالف امیدوار کی رائے کے برعکس ہو ۔ یعنی آپ کی خوبیوں اور مخالفین کی خامیوں کو واضح کرتا ہو ۔ اس میں روانی ہو نی چاہئے اور اسے بار بار سنایا جانا چاہئے
امیدواروں کے حق میں جوش وخروش بڑھانے کے لئے ان کے میڈیا کنسلٹنٹ ایسے نعرے تشکیل دیتے ہیں جو پرکشش ہونے کے ساتھ امیدوار کی پالیسی بھی واضح کرتے ہوں ۔ اتنے مختصر ہوں کہ سٹکر بن کر کار کے بمپر پر لگ سکیں مثلاًیہ نعرے ملاحظہ ہوں۔
صدر کلنٹن کا نعرہ تھا۔۔۔ معیشت ۔۔صدر جارج بش سینئیر کا نعرہ تھا ۔۔۔”کوئی نیا ٹیکس نہیں “..یعنی سب نعرے عوام کے لئے پرکشش تھے ۔ اور اب براک اوباما کا نعرہ ہے ۔۔۔ تبدیلی
پولیٹیکل مارکیٹنگ کا مقصد اپنے امیدوار کے حق میں حمایت اور جوش پیدا کرنا اوراسے اس وقت تک قائم رکھنا ہوتا ہے جب تک ووٹر اپنے ووٹ کا آخری فیصلہ نہ کر لے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ان ووٹروں تک پہنچنا ہوگا ،جو کسی پارٹی سے منسلک نہیں ہیں ۔ ووٹر صرف اس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں جسے بہترین سمجھتے ہیں ۔ اور آخر میں یہی وہ لوگ ہیں جو یہ فیصلہ کریں گے کہ امریکہ کا آئندہ صدر کون ہوگا ۔