اس رپورٹ کی ویڈیو
 |
|
ریلف نیڈر |
ریلف نیڈر کا نام سنتے ہی ڈیموکریٹس کو 2000 کے انتخابات میں اپنی ناکامی یاد آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2000 میں الگور کے ہارنے کی واحد وجہ ریلف نیڈر تھے ۔ 2000 کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار الگور نےپانچ کروڑنو لاکھ بیانوےہزار335ووٹ حاصل کیےجو کل مقبول ووٹ کا 48.4% بنتے ہیں۔ صدر بش نے 47.9% اور نیڈر نے 2.7%۔
فلوریڈا میں جارج بش الگور سے 537 ووٹوں کی برتری کے ساتھ جیت گئے اور نیڈر نے 97 ہزار 488 ووٹ حاصل کیے ۔ چنانچہ ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ اگر نیڈر نہ ہوتے تو الگور فلوریڈاسے جیت جاتے اور جارج بش صدر نہ بنتے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سات سال کے دوران صدر بش کی طرف سے کیے گئے غیر مقبول فیصلوں بشمول عراق جنگ میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ریلف نیڈر کو ٹھرایا جاتا ہے۔
نیڈر کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کے پاس یہ چوائس ہونی چاہیے کہ وہ تیسری پارٹی یا آزاد امیدوار کا بھی انتخاب کرسکیں۔
ایک بار پھر یہ سوال اٹھا ہے کہ اس مرتبہ بھی نیڈر ڈیموکریٹک نمائندے کے ہارنے کہ وجہ نہ بن جائیں۔ اب تک کے پولز کے مطابق ڈیموکریٹس کے براک اوباما کو ملکی سطح پر سب سے زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔
براک اوباما کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے نیڈر ایک ایسی شخصیت ہیں کہ اگر آپ ان کی بات نہ مانیں اور ان کی پالیسیوں کو نہ اپنائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ آپ صحیح نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام سب سےبہتر ہے۔ وہ ایک قومی ہیرو ہیں اور میں ان کی تضحیک نہیں کرنا چاہتا لیکن میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ان کے ایجنڈے پر عمل نہیں کر رہا تو اس میں کوئی کمی ہے۔
نیڈر سے جب پوچھا گیا کہ اگر اس مرتبہ بھی فلوریڈا یا اوہائیو میں ان کی وجہ سے ڈیموکریٹس کا نمائندہ ہار گیا تو کیا وہ اس کی ذمہ داری قبول کریں گے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس رپبلیکنز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ان کو میدان چھوڑ دینا چاہیے اور کوئی اور طریقہ اپنانا چاہیے۔ کیا امریکی عوام جنگ کے حامی جان مکین کو ووٹ دیں گے جو کہہ چکا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھے گا۔کیا وہ ایک ایسے ریپبلیکن کو ووٹ دیں گے جوبش اور چینی کی اس مجرمانہ حکومت کا ساتھ دیتا ہے جو امریکی تاریخ کی سب سے غیر مقبول حکومت ہے۔
ریلف نیڈر کا کہنا ہے کہ دو پارٹیوں کی سیاست کا دور ختم ہونا چاہیے اور یہی جمہوریت ہے۔