اس رپورٹ کی ویڈیو
 |
|
نوجوان ووٹروں کے ثبت نام کے مراسم |
ووٹنگ کے حوالے سے 1990 میں قائم کی جانے والے ایک آزاد ادارے’ راک دی ووٹ ‘ میں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے
راک دی ووٹ کا اصل مقصد ووٹنگ اور الیکشن کے عمل کو دلچسپ بنانا ہے تاکہ نوجوان اس میں بھرپور انداز سے حصہ لے سکیں ۔
راک دی ووٹ کے تازہ ترین سروے کے مطابق الیکشن کے عمل میں اس سال نوجوان ووٹرز کی اتنی بڑی تعداد شریک ہے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس کے علاوہ نوجوان ووٹرز ان مسائل کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جو انہیں سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں جن میں معیثت ۔ صحت ، کالج کے اخراجات اور عراق جنگ شامل ہیں ۔
ایک بہت بڑی اکثریت یعنی تقریباً90 فی صد کا یہ خیال ہے کہ وہ اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
75 فی صد کو یقین ہے کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں نوجوان ووٹرز اس سال ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں اوروہ ایک بڑی تعداد میں نکل کر اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت کررہے ہیں۔
جب ان نوجوان ووٹروں سے یہ پوچھا گیا کہ اگر الیکشن میں وہ کس امیدوار کو وائٹ ہاؤس تک پہنچائیں گے تو 47 فی نوجوان کا جواب تھا ہلری کلنٹن ۔ 35 فی ووٹرز نے جان مک کین کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ اوباما کے حصے میں سب سے زیادہ یعنی 60 فی صدووٹ آئے۔
ستر لاکھ کے قریب نوجوان ووٹرز نے 2008 کے پرائمریز میں حصہ لیا جونوجوان ووٹرز کی تاریخ کی سب سےبڑی تعداد ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بار نوجوان ایک خاص جذبے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے جارہے ہیں اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھی ووٹ دینے کی طرف مائل کررہے ہیں ۔