اس رپورٹ کی ویڈیو
 |
|
براک اوباما |
پچھلے مہینے سپر ٹیوز ڈے کے نتائج سے یہ توقع تھی کہ ڈیموکریٹک امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ ہو جائے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔مختلف ریاستوں کے پرائمریز میں ہلری کلنٹن اور براک اوباما دونوں معمولی فرق کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں ۔ اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ منگل کو ٹیکساس اور اوہائیو میں ہونے والے پرائمریز نتیجہ خیز ہوں گے۔
2008 کی صدارتی دوڑ جتنی طویل ہورہی ہے وہ اتنی ہی دلچسپ بھی ہے۔ ایک طرف ری پبلیکن پارٹی کے جان مک کین ہیں جو اپنے حریف مائک حکابی پر تنقید کرنے کی بجائے ڈیموکریٹس کو نشانہ بنارہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہلری کلنٹن اور براک اوباما ایک دوسرے کو کم اہل ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ان کی مہم مسائل کے حل پر مبنی ہے ، احساسات اور جذبات پر نہیں ہے۔
 |
|
ہلری کلنٹن |
ہلری کلنٹن کہتی ہیں کہ کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں تقریروں کے ذریعے آپ کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے جبکہ میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایک ایسی شخصیت پہنچ جائے جو امریکہ کے مسائل حل کرسکے۔
مباحثوں اور میڈیا میں جاری یہ مقابلہ اب مزید مشکل صورت اختیار کرچکاہے۔ سینیٹر اوباما ایک طرف مسلسل پرائمریز جیت رہے ہیں تو دوسری طرف انتہائی ہوشیاری سے اپنی حریف کا مقابلہ بھی کررہے ہیں ۔
اوباما کہتے ہیں کہ ہلری کلنٹن نے اپنی نامزدگی کی مہم میں ابھی تک سفارت کاری کو موقع نہیں دیا۔ وہ ابھی تک یہ نہیں جانتیں کہ عراق پر فوجی کارروائی کے حق میں ووٹ دینا ان کی غلطی تھی یا جنگ شروع کرنے لیے رضامندی کا اظہار تھا۔ میں آج بھی ان کی جانب سے یہ سننے کا منتظر ہوں کہ جنگ کے حق میں ووٹ کے علاوہ ان کے پاس کونسا ایسا تجربہ ہے جس کی بنا پر وہ ہنگامی حالات سے بہتر طور پر نبٹنے کا دعویٰ کرسکتی ہوں۔
4 مارچ کو دوبڑی امریکی ریاستوں ٹیکساس اور اوہائیو میں پرائمریز ہورہے ہیں۔ ان ریاستوں سے جیتنے والے امیدوار کو بڑی تعداد میں ڈیلی گیٹس مل سکتے ہیں۔ جو آگے چل کر حتمی نامزدگی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
پورے امریکہ کی نظریں منگل کے پرائمریز پر جمی ہوئی ہیں۔