 |
|
جیرالڈین فرارو |
ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے امیدوار سینیٹر براک اوبامانے منگل کے روز Mississippi پرائمری جیت کر اپنی فتوحات کی تعداد مزید بڑھا لی ہے مگر اس فتح کے ساتھ ڈیموکریٹس کی مہم میں رنگ کے مسئلے نے بھی اپنے لیے جگہ بنا لی ہے۔
براک اوباما نےاس مقابلے میں ہلری کلنٹن کو 20 سے زیادہ پوانٹس سے شکست دی جس کےبعد ان کے ڈیلی گیٹس کی تعداد بڑھ کر 1,611ہوگئی ۔ اب انہیں ہلری کلنٹن پر 131 ڈیلی گیٹس کی برتری حاصل ہے۔ ان کے درمیان اگلہ مقابلہ پینسلوینیا میں ہوگاہے جس میں تقریباً 6 ہفتے باقی ہیں۔
نائب صدر بننے کی پیش کش کے جواب میں سینٹر اوباما نے کہا کہ وہ صدارت کے امیدوار ہیں ۔ وہ نہ تو نائب صدر بننا چاہیں گے اور نہ ہی مقابلے سے الگ ہوں گے۔
تجزیہ کار اب اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ صدارتی مقابلے میں رنگ اور نسل کے اختلاف اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔ اس نئی بحث کا آغاز سینٹر ہلری کلنٹن کی حامی اورڈیموکریٹک پارٹی کی 1984 کی نامزد کردہ نائب صدر Geraldine Ferraro کے ایک بیان کے بعد شروع ہوا جو انہوں نے کیلی فورنیا کے ایک اخبار کو دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اوباما سفید فام ہوتے تو ان کی پوزیشن اتنی مضبوط نہ ہوتی۔
ہلری کلنٹن خود کو اس بیان سے الگ رکھ رہی ہیں مگر رنگ و نسل کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ منگل کو ہونے والی Mississippi پرائمری کا ووٹ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ سینیٹر اوباما کو 90% افریقی نژاد سیاہ فاموں کے ووٹ ملے جبکہ 70 فی صد سفید فاموں نے ہلری کلنٹن کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔