 |
|
امریکی خاتون اوّل لارا بش |
امریکہ میں ہر سال تقریبا دو لاکھ خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ پاکستان میں بھی اس مہلک کینسر میں مبتلا خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ بریسٹ کینسر پر ریسرچ کے سلسلے میں امریکی خاتون اوّل لارا بش ایک فعال کردار ادا کررہی ہیں اورحال ہی میں انہوں نے اس پر ریسرچ کے لئے مشرق وسطی کے ممالک کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔
بریسٹ کینسر کو خواتین میں تشخیص ہونے والے کینسر کی سب سے عام قسم سمجھا جاتا ہے ۔۔مگر اس مرض پر قابو پانے کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ اس کے بارے میں بات نہ کرنا ہے ۔انہی سماجی رکاوٹوں کے بارے میں بات کرنے کے لئے امریکی خاتون اول لارا بش نے 2007میں مشرق وسطی ممالک کا دورہ کیاتھا اور یو ایس مڈل ایسٹ پارٹنر شپ فار کینسر ریسرچ قائم کی تھی۔
لارا بش کا کہنا ہے کہ 25سال پہلے زیادہ تر امریکی خواتین بھی سال میں ایک بار میمو گرام نہیں کراتی تھیں ۔سعودی عرب میں تشخیص کئے گئے بریسٹ کینسر کے 70فیصد کیسز عام طور پر اپنی ایڈوانس سٹیج پر ہوتے ہیں اور ناقابل علاج ہو چکے ہوتے ہیں ۔جبکہ امریکہ میں بریسٹ کینسر کے ناقابل علاج کیسز کی تعداد اس کا تیس فیصد بھی نہیں ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020تک بریسٹ کینسر کے 70فی صد مریض پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ہونگے جہاں اس مرض کی تشخٰص کا ٹیسٹ میمو گرام کے اخراجات ایک کنبے کی ماہانہ آمدنی کے برابر ہیں ۔مگر سوزن جی کامن جیسی تنظیموں کی کوشش ہے کہ اس مرض کی ابتدا ہی میں تشخیص کو ممکن بنانے کے لئے خواتین کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی دی جائے ۔