 |
| پاکستان میں خود کش حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات |
پاکستان میں حالیہ برسوں میں خودکش حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ان حملوں کا نشانہ عام طورپر سیکیورٹی کے ادارے ہوئے ہیں مگر حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ فرحانہ علی ایک امریکی تھینک ٹینک رینڈ سے وابستہ ہے۔ انہوں نے حال میں پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے۔ خود کش حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں وائس آف امریکہ نے ان سے انٹرویو کیا۔
فرحانہ علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خود کش بم حملے ایک نیا اور غیر ملکی عنصر ہے۔ پہلا حملہ 2004 میں ہوا ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کم از کم شروع میں یہ حملے القاعدہ سے متاثر ہو کر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے عراق سے درآمد ہوئے۔ اور ان حملوں کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقے اور ان حملوں کا سرمائے اور اور پلاننگ کے لحاظ سےانتہائی منظم ہونا اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی بڑی تحریک موجود ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں اضافہ ہوا ہے ۔ حالیہ سال میں ایسے سولہ بم حملے ہوئے اور یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تمام القاعدہ سے متاثر ہو کر کیے گئےہوں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ان کے پیچھے ایک یا زیادہ گروپس کا ہاتھ ہے ۔لیکن ایک بات عیاں ہے کہ ان سب کا مقصد معاشرے میں افرا تفری پھیلانا اور موجودہ حکومت کا خاتمہ ہے ۔
فرحانہ علی نے کہا کہ میں ایک ہفتے پہلے ہی پاکستان سے واپس آئی ہوں ، میں پشاور اور کشمیر گئی اور ظاہر ہے کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کی آرا ء مختلف ہیں ۔ اگر عمومی سوچ کی بات کریں تو خود کش بم دھماکوں کی عام ، پڑھے لکھے اور اونچے طبقے کے افراد میں کوئی پذیرائی موجود نہیں ہے ۔اور چونکہ تشدد پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں رہا اس ہی لیے سول سوسائٹی تشدد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ دوسری جانب موجودہ حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناپسندیدگی بھی واضح طور پر نظر آئی، جس کی ایک وجہ امریکہ کی خارجہ پالیسیاں بھی ہیں اور جنہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ اور میرے خیال میں سول سوسائٹی کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
فرحانہ علی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ناخواندگی کے زیادہ تناسب کی وجہ سے جہادی لیڈروں کی مقامی آبادی میں سے لوگوں کو بھرتی کرنے کا موقع ملا ہے ۔ کیونکہ اگر آپ ان کم عمر خودکش حملہ آوروں کو دیکھیں تو آپ کو وہ زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ دکھائی دیں گے اور ان کا تعلق معاشرے کے مخصوص طبقوں سے ہوگا۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جہادی لیڈربھی ناخواندہ ہوں ۔مثلاً القاعدہ تنظیم کی اونچی سطح پر نظر ڈالی جائے تووہاں بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ ملیں گے ۔