 |
| کلیولینڈ کے شھر میں ایک قرقی شدہ گھر |
امریکہ میں مارگیج کے بحران نے لاکھوں امریکیوں کو ان کے گھروں اور عمربھرکے سرمائے سے محروم کردیا ہے۔ حکومت نے بحران پر قابو پانے کے لیے کئی مالیاتی اقدامات کیے ہیں جن کے اثرات آئندہ چند ماہ میں ظاہر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
حکومت کے ساتھ کئی سماجی تنظمیں بھی اونچی شرح کے قرضوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے کام کررہی ہیں۔ امریکہ میں اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست میں کام کرنے والی ایک ایسی تنظیم کا نام ای ایس او پی ہے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر جیمز جونز بحران کے پس منظر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اونچی شرح سود کے قرضوں کی زد میں کم آمدنی والے لوگ آئے کیونکہ وہ کم شرح سود کے قرضے حاصل کرنے کے میعار پر پورے نہیں اترتے تھے ۔ یہ قرضے لمبی مدت کی مقررہ شرح کے نہیں تھے بلکہ دو یا تین یا پانچ سال کی تبدیل ہونے والی شرح پر دیے گئے ۔پہلے سال سودکی شرح تعارفی تھی جو بہت ہی کم تھی جس سے پہلے سال لوگوں کو بہت فائدہ ہوا اور ان کی ماہانہ قسط بہت کم ہوگئی۔
جونز کا کہنا ہے کہ جب سود کی شرح میں اضافے کا وقت آیاتو بہت سی کمنیوں کے ایجنٹ اپنے دفتر بند کر کےعلاقہ چھوڑ گئے۔اور سود بڑھنے سے قسط اتنی زیادہ ہوگئی کہ کم آمدنی والے اکثر مالکان انہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔
ایک مالک مکان مارک نے ایک مارگیج کمپنی کے ایک ایجنٹ کے بارے میں بتایا کہ اس نے میرے پہلے قرض کے کاغذات دیکھے اور کہا کہ میں اس قسط میں سوڈالر مہینے کی کمی کرسکتا ہوں۔مجھے بچت نظر آئی ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر اس نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ اس قرضے کی سود کی شرح بعد میں بدل جائے گی۔
تنظیم کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ اس علاقے میں مکان قرق ہونے کی رفتار میں کوئی کمی آجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ قرض لینے والے 2010 تک جگہ جگہ جا کر مدد کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہیں گے۔