 |
|
صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن (دائیں) ۔ جان مکین ۔ اور براک اوباما (بائیں) |
دیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک اوباما اور ہلری کلنٹن ان دنوں امریکی ریاست پنسلوانیا میں نامزدگی جیتنے کے لیے اپنی اپنی مہم چلا رہے ہیں جہاں اس مہینے کی 22 تاریخ کو پرائمری ہوں گے۔
ڈیموکریٹس کو جہاں یہ شک ہے کہ باراک اوباما اور ہلری کلنٹن کے درمیان طویل ہوتا مقابلہ جان مکین کو نومبر میں مدد دے گا۔ وہاں وہ یہ بات بھی بڑے یقین سے کہتے ہیں کہ ان کاامیدوار جان مکین کو ہرا دے گا۔
ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ سینٹر جان مکین اپنے ماضی کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔ وہ ایک سچے امریکی ہیں اور ہم اس بات کی قدر کرتے ہیں۔ ہمارا امیدوار امریکہ کے روشن مستقبل کی بات کرے گا۔ لیکن ہم جارج بش کے مزید4 سال برداشت نہیں کر سکتے اور جان مکین کے آنے کا مطلب یہی ہو گا۔
فی الحال جان مکین ڈیموکریٹس کی طرف سے شدید حملوں کی زد میں ہیں۔ چاہے وہ ہلری کلنٹن ہوں، باراک اوباما یا نینسی پلوسی۔ ہلری کلنٹن ان کی معاشی پالیسی پر تنقید کر رہی ہیں اور باراک اوباما عراق کے حوالے سے ان کے منشور پر۔
ہوا کا رخ بھانپ کر جان مک کین اب خود کو صدربش کی پالیسیوں سے الگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں صدر بش کی پالیسی پر الیکشن نہیں لڑ رہا بلکہ اپنی صلاحیتوں، قابلیت اور سیاسی بصیرت پر انتخابات میں حصہ لے رہا ہوں۔ اب لوگوں کو یہ بتانے کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے اور میں ایسا ہی کر رہا ہوں۔
صورت حال میں ایک دلچسپ تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب ڈیموکریٹس ایک دوسرے کے علاوہ جان مکین پر بھی تنقید کر رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہےکہ دونوں میں سے کسی بھی امیدوار کا پیچھے نہ ہٹنا پارٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ننسی پیلوسی اس وقت سب کی نگاہوں کا مرکز بن گئیں جب انہوں نے یہ بیان دیا کہ سپر ڈیلیگیٹس کو اسی امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے جو پرائمریز اور کاکسسز میں زیادہ ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل کر نے میں کامیاب ہو۔
سینٹر کلنٹن کے حامیوں نے نینسی پیلوسی کی اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا یہ بیان سینٹر اوباما کے حق میں جائے گا۔ نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ ان کے اس بیان کا مقصد صرف یہ تھا کہ سپر ڈیلی گیٹس عوام کے انتخاب کی حمایت کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ فائدہ مند ہو گا کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو اپنے امیدوار کا انتخاب کر لے۔